کالم

اردو کا مزاج ہی الگ ہے۔

کسی بھی ملک کی قومی زبان اس کے قومی تشخص اور اس کے وقار میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔قیامِ پاکستان کے بعد قائد نے اردو کی عام مقبولیت اور اس صلاحیت کے پیشِ نظر کہ اس میں تمام دوسری زبانوں سے اختلاط کی لچک موجود ہے،اسی کو پاکستان کی قومی زبان بنانا منظور کیا۔یہ زبان دنیا کے ایک بڑے حصہ میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔بھارت میں امرتسر سے کلکتہ تک اور ہمالیہ کی ترائیوں سے راس کماری تک کروڑوں انسان اردو بولتے،سمجھتے،لکھتے،اور پڑھتے ہیں۔وہاں کئی اخبارات اور کئی رسائل اردو زبان میں شائع ہوتے ہیں،اور لاتعداد کتب اردو زبان میں چھپتی ہیں۔اسی طرح کتنے ہی دوسرے ممالک یعنی امریکہ،برطانیہ،جرمنی،سویڈن،اور خلیجی ریاستوں میں لاکھوں افراد اردو بولتے اور سمجھتے ہیں،مگر یہ شرف اور یہ اعزاز صرف اہلِ پاکستان کے حصہ میں ہی آیا کہ انہوں نے اردو کو ہی اپنی قومی زبان ٹھہرایا۔معزز قارئین۔اہلِ پاکستان کا اس شرف و اعزاز پر ناز کچھ بے وجہ بھی نہیں کہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں مختلف النسل لوگ آباد ہیں اور ان کی زبانیں بھی باہم مختلف ہیں۔پنجاب میں پنجابی،سندھ میں سندھی،بلوچستان میں بلوچی،اور کے۔پی۔کے میں پشتو بولی جاتی ہے۔ان کے علاوہ سرائیکی،ہندکو،براہوی جیسی زبانیں بھی ہیں،جس کا اپنا اپنا حلقہ ہے،مگر جو زبان پاکستان کے تقریبا“سارے ہی علاقوں میں بولی اور سمجھی جاتی ہے وہ اردو زبان ہے۔مختلف علاقائی زبانیں بولنے والے افراد کے مابین رابطہ کی زبان بھی یہی ہے۔معزز قارئین۔اردو زبان کی اہمیت اس بات میں بھی ہے کہ جب پاکستان کی تحریک ابتدائی مراحل میں تھی تو اس وقت بھی بعض رہنماؤں نے مذہب،عقیدہ،اور زبان ہی کے تعلق سے ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کو الگ قوم ٹھہرایا تھا۔اس اعتبار سے علامہ اقبال ،حسرت موہانی،علامہ شبلی نعمانی،محمد علی جناحؒ،اور دیگر اکابرین نے ہندی کے مقابلے میں اردو زبان کی حمایت کر کے یہ ثابت کر دیا تھا کہ اسلام کے ساتھ ساتھ ہمارا دوسرا باہمی رشتہ زبان کا ہے۔چنانچہ جدوجہد آزادی کے دوران اردو ہی رابطہ کی زبان تھی۔سیاست دان اسی زبان کو ذریعہ اظہار بناتے،مقررین اسی زبان میں لوگوں کے دلوں کو گرماتے اور جذبات کو جوش دیتے،مفسرین اسی زبان میں قرآن مجید کی تفسیر رقم کرتے،اور شعرا اسی زبان کے توسط سے غلام دلوں میں آزادی کا ولولہ پیدا کرتے۔جناح کی بصیرت نے اسی لئے اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دیا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ جب تک کسی قوم کا جداگانہ تشخص نہ ہو،اس وقت تک اس کے مجموعی خیالات میں انفرادیت نہیں آیا کرتی اور نہ اس کی سوچ قومی سطح پر نکھر سکتی ہے۔چنانچہ انہوں نے 21 مارچ 1948 کو ڈھاکہ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے واضع طور پر فرما دیا تھا کہ:”ایک مشترکہ سرکاری زبان کے بغیر کوئی قوم باہم متحد نہیں ہو سکتی اور نہ کوئی کام کر سکتی ہے۔جہاں تک پاکستان کی سرکاری زبان کا تعلق ہے،وہ اردو ہی ہو گی“۔معزز قارئین۔پاکستان کی قومی زبان کے بارے میں قائد پاکستان کے اس قدر واضح اعلانات کے باوجود،یہ امر نہایت افسوسناک ہے کہ اردو زبان کو بحثییت قومی زبان نہ تو صحیح طور پر اپنانے کی کوئی سنجیدہ کوشش کی گئی اور نہ ہی اسے سرکاری دفاتر میں رائج کرنے کی مساعی کی گئیں۔حالانکہ ہر شعبہ میں اس کی اہمیت و افادیت مسلمہ ہے۔اردو کے بطور قومی زبان نفاذ کا مطلب یہ ہے کہ حکومتی امور میں تین دائروں میں اس زبان کو رائج کیا جائے یعنی:زبان کا سرکاری اور دفتری استعمال۔۔۔عدالتوں میں جملہ امور قومی زبان کے ذریعے سرانجام دیئے جائیں۔۔۔درس و تدریس میں قومی زبان کو بطور ذریعہ تعلیم یکساں طور پر پورے ملک میں نافذ کیا جائے۔۔۔لیکن تا حال نفاذ اردو کیلئے کوئی پر خلوص کوشش عمل میں نہیں لائی گئی۔اس بے اعتنائی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں حکومت و اختیار پر بڑی حد تک وہ طبقہ قابض و متصرف رہا ہے جو نہ صرف انگریزی زبان سے مرعوب ہے بلکہ اس کی پرورش و پرداخت اس طور سے ہوئی ہے کہ اس کا اوڑھنا بچھونا ہی انگریزی زبان ہے۔تمام تاریخی حقائق کو یکسر پس پشت ڈالتے ہوئے یہ طبقہ اسی ایک بات کی رٹ لگائے ہے کہ اردو ایک بے مایہ اور پسماندہ زبان ہے۔ان کے چھوٹے ذہنوں میں یہی بات سوار ہے کہ اگر ہم نے انگریزی زبان کو ترک کر کے اردو کو اختیار کیا تو ہم ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے۔حالانکہ ان کی یہ دلیل سراسر بے وزن اور بے بنیاد ہے،اور اس کا بوداپن ایک اس بات ہی سے ثابت ہو جاتا ہے کہ چین اور جاپان جیسے ترقی یافتہ ممالک نے جو ترقی کی ہے وہ انگریزی زبان کا سہارا لئے بغیر اور اپنی قومی زبان کے بل بوتے پر کی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مانگے تانگے کی زبان کو ذریعہ اظہار بنانے والے قومی تشخص سے بیگانہ اور ملی آبرو سے بےنیاز ہوتے ہیں۔ایک دفعہ چین کے وزیر اعظم چو این لائی پاکستان آئے،ان کا یہاں ہر مقام پر انگریزی میں استقبال ہوا مگر انہوں نے ہر خیر مقدم کا جواب چینی زبان میں دیا۔گو کہ وہ انگریزی زبان میں مہارت رکھتے تھے لیکن انہوں نے اپنی ہی قومی زبان کو اظہار کا ذریعہ بنایا کیونکہ ان کے الفاظ میں ”چین گونگا نہیں ہے“۔معزز قارئین۔بطور قومی زبان اردو کا فروغ نہ صرف یکجہتی اور اتحاد کے لئے ضروری ہے بلکہ اقوام عالم کے مابین امتیاز اور سربلندی کے لئے بھی ضروری ہے۔وقت اور قومی وقار کا تقاضا ہے کہ جب ہم نے اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دے رکھا ہے تو اسے قومی زبان کے طور پر اختیار اور رائج کرنے کیلئے بھی نہایت خلوص،اور پوری دیانتداری کے ساتھ تمام ذرائع بروئے کار لائے جائیں۔حکومتی ایوانوں میں اردو کا چلن ہو۔سرکاری دفاتر کی تمام تر کاروائی میں اردو اور صرف اردو کا سہارا لیا جائے،تعلیم،تجارت،کاروبار،امتحانات،غرض کہ زندگی کے تمام شعبوں میں اردو سے کام لیا جائےتو کوئی وجہ نہیں کہ اردو کو ہماری قومی زبان کے طور پر وہ مقام حاصل نہ ہو جس کی وہ قرار واقعی مستحق ہے۔اردو کا یہ استحقاق برحق ہے کیونکہ:اب  کا  نہیں  یہ  ساتھ، یہ  صدیوں  کا  ساتھ  ہے تشکیلِ  ارض  پاک  میں  اردو  کا  ہاتھ  ہے.

Sajid Ali Shmmas <sajidshmmas03@gmail.com>
google.com, pub-9821533189288546, DIRECT, f08c47fec0942fa0
Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close