کالم

وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں۔۔۔

کسی اور موضوع کو چھیڑنے کی ہمت ہی نہیں۔الفاظ کے ترازو میں تولنے اور چند ٹکوں کے عوض اپنا ضمیر تک بیچنے والے یہ نام نہاد مسلمان مجھے کسی اور موضوع پر لکھنے کا سوچنے ہی نہیں دیتے۔سولہ سو روپے والی آٹے کی چالیس کلو کی بوری کو دوہزار تک ایک غریب کو بلیک میل کر کے بلیک میں فروخت کرنے والے،اور پھر زلزلوں سے بھی ڈرنے والے یہ اسلام پسند عوام مجھے کسی اور موضوع کی طرف دیکھنے کی جسارت کرنے ہی نہیں دیتے۔ویسے کہنے کو تو ہمارے مذہب کے خانے میں چاہے وہ شناختی کارڈ ہو، ڈومی سائل ہو یا پھر پاسپورٹ ہو،مذہب اسلام اندراج ہوا ہے۔لیکن بدقسمتی سے اصل حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں کسی قسم کی کوئی حرکت ایسی نہیں ہو رہی جس کو اسلامی کہا جاسکے۔جدیدیت کو اپنانے کی خاطر سب اپنے مذہب سے منحرف ہونے کی دوڑ میں شامل ہیں۔کوئی دولت مند بننے کی خاطر اسلامی اقدار کی خلاف ورزی کرنے پر تلا ہے اور کوئی ہماری مغربی ڈرامہ انڈسٹری سے متاثر ہو کرانہی اقدار میں ڈھلنےکی تگ و دو کر رہا ہے،اور کوئی ہوس پرستی کی آگ میں جل رہا ہے۔یہ پورے کا پورا معاشرہ ایک جنگل کی سی نظیر پیش کر رہا ہے۔جنگل کا قانون نافذ ہے۔جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے قانون پر سب عمل پیرا ہیں۔اگر کوئی غلط کام کررہا ہے۔اسلامی نظام سے بغاوت کر رہا ہے۔مغربی سماج کی تقلید کر رہا ہے تو کسی میں جرأت نہیں کہ اس کو غلط کام سے روک سکے۔کیونکہ وہ خود بھی یہی کام سرانجام دینے کیلئے بےتاب ہے۔اگر کوئی غلطی سے کسی کو ٹھیک بات بتا بھی دے تو اس پر پرسنل ہونے کے فارمولے کو لاگو کر دیا جاتا ہے،جس کا کوئی جواب ہے ہی نہیں۔معزز قارئین۔وہ ملک جسے اسلام کے نام پر،اسلامی فلاحی ریاست کے طور پر بنایا گیا تھا،اسلامی رواج کو نافذ اور اپنانے کیلئے جنہوں نے اپنی ہڈیوں کا گودا تک اس چمن کی تعمیر پر ہنستے ہنستے وار دیا تھا۔آج وہ بھی اس کی حالتِ زار کو دیکھیں تو وہ بھی ضرور پشیماں ہوں گے۔آج اس فلاحی ریاست کی عملی تصویر یہ ہے کہ یہاں بچوں کی زندگیاں بلکہ بچوں کی عزت و آبرو تک محفوظ نہیں۔یہاں ایسی عجیب عجیب باتیں ہو رہی ہیں کہ جس کا کبھی کسی نے تصّور تک نہ کیا تھا۔سگا بھائی، سگے بھائی کے ساتھ زیادتی کرکے اسے موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔بچیوں کے ساتھ ہونے والی درندگی میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے،لیکن کسی کو اپنی بچیوں کی کوئی پرواہ نہیں۔سب ستو پی کر سوئے ہوئے ہیں۔اور ہمارے حکمراں سیاست،سیاست کھیلنے میں مگن ہیں۔جمہوریت کی سب کو فکر ہے لیکن جمہور کا لہو اسی جمہوریت کی سڑکوں پر رقص کرتا ہوا کسی کو نظر نہیں آرہا۔۔۔معزز قارئین۔اس وقت اس اسلامی فلاحی ریاست کی حالت زار یہ ہو چکی ہے کہ ایک مؤذن تین ساتھیوں کے ساتھ مل کر گیارہ سالہ بچی کو بے آبرو کرتا ہے اور وہ بچی تین دن تک ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد زندگی کی بازی ہار جاتی ہے۔سوال یہ نہیں ہے کہ اس کو سزا کیوں نہ ہوئی۔سوال یہ بھی نہیں ہے کہ اس نے بچی کو ہوس پرستی کا نشانہ کیوں بنایا اور سوال یہ بھی نہیں ہے کہ وہ کس کی بچی تھی۔۔۔بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم نے اس واقعہ سے پہلے زیادتی کا نشانہ بنانے والوں کو مقام عبرت کیوں نہ بنایا؟ سوال یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں سزاؤں کا قانون کیوں نہیں ہے؟ اور سوال یہ بھی ہے کہ ہم کسی کی بیٹی کو اپنی بیٹی کیوں نہیں سمجھتے۔۔۔؟بعض کم عقل دانشور اور اپنے آپ کو بلاوجہ کا مفکر ماننے والے اسی بات پر زور دیتے ہیں کہ نفرت جرم سے ہے،مجرم سے نہیں۔سوال یہ نہیں ہے کہ وہ جرم ہے کیا۔۔۔بلکہ سوال یہ ہے کہ وہ جرم کیا کس نے؟ جس نے جرم کیا وہی مجرم ہے یا جرم خودبخود ہو گیا؟ کسی نے کیا ہے تو ہوا ہے نہ۔۔تو نفرت بھی اسی سے ہو گی جس نے جرم کیا ہے۔اس نظریے کا وہی لوگ سہارا لیتے ہیں جو کسی کی عزت کو اپنی عزت سمجھنے سے قاصر ہیں۔اگر ان کے اپنے گھر اس طرح کا واقعہ ہو جائے تو انہیں پتہ چل جائے کہ عزت و آبرو کیا ہوتی ہے۔آج جناح کے دیس کی حالت یہ ہو چکی ہے کہ یہاں پر عزتیں درندگی کا شکار ہونے کے بعد کھیتوں سے مل رہی ہیں۔لوگ دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں۔مہنگائی اور بےروزگاری نے عوام سے جینے کا حق چھین لیا ہے۔لوگ اب صرف جینے کی اداکاری کر رہے ہیں۔اور جمہوریت زندہ باد کے نعروں سے گونج رہی ہے۔ہمارے حکمراں احساس سے عاری ہوتے جارہے ہیں۔سیاست،سیاست کا میچ کھیلا جارہا ہے۔ہر کوئی اپنی باری کے انتظار میں اگلے کو آؤٹ کرنے کے چکروں میں ہے۔عوام کو دن رات جوتے مارے جارہے ہیں، اور یونہی مر مر کے جینے کی عادت ڈالی جارہی ہے۔لوگ آٹے کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں اور جن کو آٹا مل رہا ہے وہ بھی بلیک میں مل رہا ہے اور جو بلیک میں فروخت کر رہا ہے اس کو کوئی پوچھنے والا ہے ہی نہیں۔اور ہمارے مسیحا بلند فضاؤں میں الیکشن جیتنے کیلئے اپنا بھی اور عوام کا بھی وقت ضائع کر رہے ہیں۔”تم آسمان کی بلندیوں سے لوٹ آنا ہمیں زمین کے مسائل پہ بات کرنی ہے۔“عوام پاکستان نے جس مقصد کیلئے موجودہ حکومت کو منتخب کیا تھا۔آج مہنگائی اور بےروزگاری کے خوفناک چکر نے ہمارے عزم کو اور ہمارے تبدیلی کے خواب کو خواب ہی بنا دیا۔آج پاکستان میں تبدیلی کا خواب دیکھنے والے بچے سے لے کر بڑے تک صرف یہی صدا بلند کر رہے ہیں۔۔۔”وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں“شاید ان کو مزید صبر کرنے کی تلقین کے علاوہ بھی کوئی یقین دلایا جاسکے۔ہو سکتا ہے کہ ملک میں ہر چیز ٹھیک ہو۔مہنگائی بلکل نہ ہو۔غربت اور بیروزگاری ختم ہو چکی ہو اور جو میں نے لکھا ہے وہ صرف میرا گماں ہو۔۔۔کیا یہ وہی ترقی ہے جس کا سب انتظار کر رہے تھے؟کیا مہنگائی کا سب انتظار کر رہے تھے؟ کیا غربت اور بےروزگاری کا سبھی انتظار کر رہے تھے؟ کیا ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا سبھی انتظار کر رہے تھے؟ اور کیا تعلیمی نظام کی بربادی کا سبھی انتظار کر رہے تھے؟ فیصلہ آپ کا ہے۔۔۔فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔۔۔فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔۔۔

Sajid Ali Shmmas <sajidshmmas03@gmail.com>
google.com, pub-9821533189288546, DIRECT, f08c47fec0942fa0
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close