کالم

اگر پولیس پروفیشنل اور باعزت بنا دی جائے تو کیا ہوگا؟

دنیا بھر میں پولیس کے بارے میں عوام کی جو بھی رائے ہو مگر وطنِ عزیز میں پولیس کے بارے میں جو رائے  ہماری عوام کی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں پولیس واحد فرنٹ لائن ایسی فورس جو دوسری فورسز کے برعکس براہِ راست عوام کے ساتھ رابطے میں ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ عوام کا پولیس سے پالا براہِ راست پڑتا رہتا ہے اور لوگوں کے ذہنوں میں یہ رائے قائم ہو چکی ہے کہ ہماری پولیس ناکام اور کرپٹ ترین ہے دیکھا جائے تو  محکمہ پولیس ہمارے ملک کا کرپٹ ترین محکمہ ہے اور کرپشن کی تمام جڑیں اس ایک محکمہ سے ہی نکلتی ہیں پولیس کے حوالے سے ناکامی اور کرپشن کا یہ جواز پیش کیا جاتا ہے کہ پولیس کی  نفسیاتی جڑیں نوآبادیاتی دور کی ذہنیت میں پیوست ہیں لہذٰا کچھ بھی کر لیں پولیس والا پولیس والا ہی رہے گا نو آبادیاتی جابرانہ سوچ اس میں رچ بس سی گئی ہے۔ لوگوں کی یہ رائے بھی سننے کو ملتی ہے کہ اگر صرف محکمہ پولیس میں سے کرپشن کو ختم کردیا جائے تو باقی تمام محکموں سے کرپشن خود بخود بھاگ جائے گی اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی رائے قائم کرلینا قبل از وقت ہوگا کہ پولیس میں اگر کرپشن ختم ہو جائے تو باقی محکمے محفوظ رہیں گے الحمدللہ پاکستان کرپشن کی دولت سے مالا مال ملک ہے اور کرپشن کے معاملے میں خودکفیل بھی ہے یہاں پر کرپشن پیدا بھی ہوتی ہے ہے اور نئے نئے طریقے بھی ایجاد کیے جاتے ہیں جس سے کرپشن کے راستے میں مزید آسانیاں پیدا کی جا سکیں لہذٰا کرپشن کا اعزاز تو پاکستان کے تقریباً ہر صوبائی اور وفاقی محکمے کو جاتا ہے لیکن محکمہ پولیس ان تمام محکموں پر کرپشن کے معاملے میں امتیازی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ دوسرے کسی محکمے میں سائل اپنے کام کی غرض سے آئے گا تو ہی افسر اس سے کام کرنے کے بدلے رشوت طلب کرے گا لیکن محکمہ پولیس کا یہ کمال ہے کہ جس کی جس وقت چاہیں طبیعت اور جیب صاف کر سکتے ہیں ۔ناکے پرکھڑا کانسٹیبل کسی موٹر سائیکل سوار سے پچاس روپے لیتا ہے تو دوسری طرف تھانے میں کسی پر جھوٹا پرچہ دے کر پچاس ہزار یا اس سے بھی زیادہ کی رقم بٹوری جاتی ہے ایسی بات نہیں کہ اس محکمہ میں ایماندار افسر نہیں ہیں بہت سے اعلی تعلیم یافتہ اور اچھے افسر بھی اس محکمے میں موجود ہیں مگر افسوس ان کی تعداد بہت کم ہے اور حکمران ٹو لے کی بات نہ ماننے کی وجہ سے اکثر انتقام کا شکار ہوتے رہتے ہیں امن و امان قائم رکھنے والے ادارے میں بہتر طور پر اصلاحات ہو سکیں گی تبھی تو ماڈل پولیس کا خواب پورا ہو پائے گا۔کیا پولیس فیصلہ ساز خود مختاری سے محروم ہے؟ جو حکمران طبقات کے زیرِ اثر کام کر رہی ہے  شاید پولیس کو جدید خطوط پر منظم کرنے اسے فیصلہ ساز خود مختاری دینے اور اس کی شرائط اوقاتِ کار کو دیگر سکیورٹی اداروں سے ہم آہنگ کرنے اور جدید تحقیقی تربیت و آلات فراہم کرنے میں اُن سب ہی کا نقصان ہے۔ فرض کریں کہ اگر یہ سب کچھ ہو جائے اور پاکستانی پولیس بھی یورپیئن اور امریکی پولیس کی طرح پروفیشنل ہو اور با عزت بنا دی جائے تو کیا ہوگا؟
اس کا سب سے ذیادہ خسارہ حکمران طبقات کو ہوگا۔ پھرکسی سے سیاسی انتقام کیسے لیا جائے گا؟ مخالفین پر ایک دو نہیں بلکہ درجنوں پرچے کیسے کٹوائے جا سکیں گے؟کسی غریب مزدور نے اگر کسی وڈیرے یا جاگیردار  کی غلامی سے انکار کر دیا تو اس کو کیسے جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر اسکی طبعیت سیٹ کروائی جائے گی؟ایک خود مختار پروفیشنل محکمہ پولیس ہونے سے مقتدر طبقات کے ذاتی،سیاسی اور سماجی دبدبے اور بدمعاشی کی قوت کو زک پہنچے گی صرف ایف ۔آئی ۔آر  کاٹنے کا نظام ہی درست ہو جائے تو حکمران طبقے کی آدھی قوت مفلوج ہوجائے گی ۔پرچہ کاٹنے سے لیکر تمام تر قانونی کاروائی سے سیاسی مداخلت ختم ہو جائے گی۔ لیکن ایسا کب ہوگا ؟ اس دن کا انتظار مجھے بھی ہے آپ بھی اس دن کا انتظار کریں ۔






Mahmood Masood <mahmoodnizami143@gmail.com>


google.com, pub-9821533189288546, DIRECT, f08c47fec0942fa0
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close