کالم

ہمارے پاس اپنا کچھ نہیں ہے

  “دکھا دکھا کر مجھے مغرب کی تہذیب کا کھیل
  مجھ سے میرے اسلاف کی پہچان چھین لی گئی
 میں بتاتا بھی رہا ان کو کہ یہ میرا نہیں ہے
 لیکن مجھ سے میری ہی زبان چھین لی گئی”

 آج وقت کی فصیل پر نئی صبح کا زریں پرچم لہرانے کے امکانات تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔بےچارگی اور مایوسی کی کیفیت نے ہر کسی کو پاگل کر رکھا ہے۔مایوسی گناہ ہے۔اس فقرے کو ہر کسی نے رٹا لگا کر اور اس فقرے کا تعویز بنا کر اپنے گلے میں باندھ رکھا ہے۔لیکن اس مایوسی کے اسباب اور اس کی وجوہات سے بغاوت کرنے والے بھی سزا کے مستحق ہو سکتے ہیں۔کیونکہ آج ہمارا تشخص تقریباً مسخ ہو چکا تھا۔آوازِ غیب اس وقت پوری آب و تاب کے ساتھ ہمارے قلوب و اذہان میں مغربی تہذیب کا رس گھول رہی تھی۔مغربی تہذیب کی بانسری عرصہ دراز سے بجائی جا رہی تھی اور ملک پاکستان میں بڑے بڑے سیکولر اور لبرلز اس کی دھن کے آگے ناچ رہے تھے اور دوسروں سے بھی رقص کروا رہے تھے۔عورت کی عزت کو پامال کیا جارہا تھا اور عورت یہ سب کچھ کروا رہی تھی۔اس وقت جب وزیراعظم صاحب نے ہماری آنکھوں پر پڑے پردے ہٹانے کا حکم دیا تو کچھ بڑے بڑے لبرلز اور سیکولر چیخ چیخ کر اٹھ رہے تھے۔اور مکمل تنقید کر رہے تھے۔وہ کیا فیصلہ تھا جس نے ان سب کو چیخنے پر مجبور کر دیا۔وہ فیصلہ تھا کہ ترکی کی ایک ایجاد,ایک ڈرامہ “ارطغرل غازی”کو پاکستان میں نشر کیا جائے۔ابھی حال ہی میں قوم کی “دانش”کا جنازہ نکالنے والا ڈرامہ نشر ہوا تھا میں اس کا نام بھی لے سکتا ہوں لیکن آپ سمجھ گئے ہوں گے۔اس ڈرامے کا نشہ ایسا چڑھا تھا کہ سب لبرلز یہی سوچ رہے تھے کہ اب اس تہذیبِ اسلامی سے بغاوت کرنے والے,اور عورت کی عزت کا جنازہ نکالنے والے,اور غیر اسلامی تہذیب کو ہوا دینے والے ڈرامہ کی خوب بانسری بجے گی اور یہ ڈرامہ اسلامی تہذیب کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گا۔لیکن ایسا سوچنے والوں کو کیا خبر تھی کہ۔
” جب رات کسی خورشید کو شہید کر دے
تو صبح ایک نیا سورج تراش لاتی ہے”
لیکن خلافتِ عثمانیہ کے بانی عثمانِ اوّل کے والد ارطغرل غازی پر مبنی ڈرامے کی پاکستان ٹیلی ویژن پر اردو ڈبنگ کے ساتھ نمائش نے اس کی مقبولیت کے تمام محل مسمار کر دیے۔اور ایک اور بات جس نے مجھے حیران کردیا کہ اس ڈرامے کو دیکھنے والے صرف پی۔ٹی۔وی کے ناظرین نہیں تھے بلکہ یہ یوٹیوب پر دیکھنے والے افراد بھی تھے۔جو بھارتی فلموں اور ڈراموں کے دلدادہ تھے اور وہ لوگ تھے جن کے ذہنوں کو عرصہ دراز سے اسلامی تہذیب کے خلاف اکسانے پر مجبور کیا جا رہا تھا۔اس ڈرامے کو صرف اکیس دنوں میں گیارہ کروڑ مرتبہ لوگوں نے دیکھ کر ریکارڈ قائم کیا۔یہ اس لیے ہوا کہ جس طرح جدید سیکولر لبرل آزاد میڈیا پاکستانی قوم کو غیروں کی تہذیب اور تقلید میں ڈھالتا جا رہا تھا۔ارطغرل نے وہ مصنوعی بند پاش پاش کر دیا۔اور اس بات کو سب کے سامنے عیاں کر دیا کہ تم ایک ہزار سال بھی اپنے پراپیگنڈے کا ذہر اور نیم فحش تہذیب کی بانسری بجا بجا کر مسلمانوں کے ذہن کو آلودہ کرنے کی کوشش کرو۔یہ نہیں بدلتے۔تمھاری محنت ہمیشہ ضائع ہی جائے گی۔کیونکہ جب بھی ان کے سامنے اسلامی تاریخ پر مبنی ڈرامے پیش کیے گئے یا افواج پاکستان کی بہادری اور جنگ پر مبنی ڈرامے پیش کیے گئے۔انہوں نے مغربی تہذیب کے جنازے کو سب کے سامنے عیاں کر دیا۔لیکن میں قارئین کے سامنے ایک بات عیاں کرتا چلوں کہ بدقسمتی سے ہمارے پاس اپنا کچھ نہیں ہے۔صرف ایک ڈرامہ ارطغرل غازی ہی اسلامی تہذیب کی عکاسی کیلئے کافی ہے؟نہیں ہماری اسلامی تاریخ لاکھوں مثالوں سے بھری پڑی ہے۔لیکن سوال یہ جنم لیتا ہے کہ ہم نے کتنے اسلامی تہذیب و ثقافت پر مبنی ڈرامے بنائے؟ ہم نے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے قلوب و اذہان کو مغربی تہذیب سے لیس ہونے سے بچانے کیلئے کتنا موْثر کردار ادا کیا؟ نہیں۔۔۔ہم نے کچھ نہیں کیا۔کیونکہ ہمیں کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ہمیں کچھ سنائی نہیں دیتا۔ہمارے آزاد ٹی۔وی چینلز نے وہ سب کچھ نوجوانوں کے سامنے پیش کیا جس کا اسلامی تہذیب کے ساتھ کوئی واسطہ نہ تھا۔ہمارے زوال کی داستاں اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتی ہے کہ پاکستان کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے ٹی۔وی چینل پر وہ ڈرامہ نشر ہوا جس کا کوئی بھی خاص مقصد دیکھنے میں نہیں آیا سوائے عشق و محبت کے۔اور اس ڈرامے کی ریٹنگ آسمان تک تقریباً پہنچ ہی چکی تھی۔ایسے فرسودہ نظام سے لپٹی سوچ کے حامل میڈیا اور معاشرے کو یہی کہا جاسکتا ہے۔
“جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے
اس حادثۂ وقت کو کیا نام دیا جائے”
ایک وقت تھا کہ جب پاک فوج کے ایک سپاہی “سپاہی مقبول حسین” کی بہادری اور وطن سے محبت پر مبنی ڈرامہ پاکستان ٹیلی ویژن پر نشر ہوا۔جس کو لوگوں نے بہت زیادہ پسند کیا۔کیا اس طرح کے ڈرامے پاکستان میں اور نہیں بن سکتے؟ کیا لب,رخسار,زلف,محبت ہی پاکستان کے لوگوں کی زندگی کا مقصد رہ گیا ہے؟کیا ماں,بہن,اور بیٹی کی عزت کو پامال کرنا ہی ہمارے ٹی۔وی چینلز کا مقصد رہ گیا ہےاور ہمارے بڑے بڑے رائٹرز اور پروڈیوسرز کا بھی۔۔۔ہمارا دامن ایسی لازوال شخصیات سے بھرا پڑا ہے۔لیکن اس بھرے ہوئے دامن کو کیا کرنا جب ضرورت مندوں کو کچھ پیش ہی نہ کیا جائے۔کیا ہم صلیبی جنگوں کی تاریخ پر مبنی ڈراموں کا سلسلہ شروع نہیں کر سکتے؟جس میں یورپ کی بربریت اور صلاح الدین ایوبی کے کردار کی عظمت کو دکھائیں۔کیا ہم محمد بن قاسم کی بہادری پر مبنی ڈرامے شروع نہیں کرسکتے؟ کیا ہم طارق بن زیاد کے کشتیاں جلا دینے اور دریاؤں میں گھوڑے دوڑا دینے پر مبنی واقعات کو قلمبند کر کے ڈرامے یا فلمیں نہیں بنا سکتے؟سقراط نے ذہر کا پیالہ کیوں پیا؟ کیا ہم ان واقعات کو بھول چکے ہیں؟یقین کریں اسلامی تاریخ ایسے بے شمار کارناموں اور فتوحات سے بھری پڑی ہے۔کیا ہم قائداعظم کی جدوجہد اور قیام پاکستان کیلئے آنے والی مشکلات کو قلمبند کر کے ڈرامے نہیں بنا سکتے؟لوگ یہ سب کچھ دیکھنا چاہتے ہیں۔لیکن ہم ان کو  وہ سب کچھ نہیں دکھا رہے جس کی وہ طلب کر رہے ہیں۔آج کے دور کا ہتھیار میڈیا ہے۔کوئی ہے جو اپنے سرمائے کا رخ اس طرف موڑے۔اور ایک مسلم پروڈکشن  کا آغاز کرے۔مغربی تہذیب کے گاڑھے ہوئے پنجوں کو اسلامی فلاحی ریاست سے جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔یقین مانیں یہ گھاٹے کا سودا نہیں ہے۔یہ ایک مسلمان کیلئے دنیا اور آخرت دونوں میں فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

sajidshmmas03@gmail.com

google.com, pub-9821533189288546, DIRECT, f08c47fec0942fa0
Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close