کالم

"عطائیوں سے بچ کر”

 ہمارے ملک میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو اپنی صحت کے حوالے سے لاپرواہی برتتے ہیں خواہ وہ لوگ شہروں سے تعلق رکھتے ہوں یا کہ دیہاتوں سے بس فرق صرف اتنا ہے کہ شہروں میں لاپرواہی کی ریشو  کم ہے جبکہ دیہاتوں میں زیادہ ہے موجودہ وبائی صورتحال کو ہی دیکھ لیں کتنے فیصد لوگ ہیں جو ایس او پیز پر عمل کر رہے ہیں؟ دیہاتوں کو تو چھوڑیں بڑے بڑے شہروں میں پڑھے لکھے لوگ بھی کرونا ایس او پیز کی دھجیاں اڑا رہے ہیں بازاروں میں مارکیٹوں میں جا کہ دیکھیے کتنے فیصد لوگ ہیں جو ماسک پہنتے ہیں؟ لیکن میرا آج کا موضوعِ تحریر کرونا نہیں میری آج کی تحریر کا موضوع عطائی ڈاکٹرز ہیں اور ایسے وہ تمام لوگ ہیں جو اپنی لاپرواہی کی وجہ سے ایسے عطائیوں کے ہاتھوں اپنی زندگیاں خطرے میں ڈال رہے ہیں عطائی ڈاکٹرز ؟ جی ہاں عطائی ڈاکٹرز جو شاید کرونا سے بھی زیادہ خطرناک ہیں اور اپنے پاس علاج کی غرض سے  آئے ہوئے مریض کی چاہیں تو پل بھر میں انجیکشن کے ذریعے جان لے سکتے ہیں غلط انجکشن میں نے اس لیے نہیں کہا کہ  جب ڈاکٹر  ہی غلط  ہے تو انجیکشن کو دوش کیوں دوں وہ بیچارہ کونسا خود بخود لوگوں کے جسموں میں گھس جاتا ہے. آیئے اب آپ معزز قارئین کو عطائیت کا مختصر سا تعارف کروا دوں عطائیت کے لیے انگریزی میں لفظ Quack salves سے نکلا ہے یہ (ولندیزی) زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب  ہےHawker of salve یعنی آواز نکال کر یا  چلِا کر اپنی مرہم بیچنے والا دوسرے لفظوں میں اس کے لئے (طبی فراڈ) کا لفظ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے ہے عطائیت کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی تاریخِ انسان اٹھارویں صدی میں برطانیہ میں عطائیت کو بہت فروغ ملا. 1830میں برطانوی پارلیمنٹ میں 1300 کے قریب ایسی ادویات کی فہرست جاری کی گئی جو عطائیت کے زمرے میں استعمال ہو رہی تھیں پاکستان میں عطائیت کے لیے نیم حکیم کا لفظ بھی استعمال ہوتا ہے ملک بھر میں عطائیوں کی بھرمار ہےاگر پنجاب کی بات کی جائے تو پنجاب کا شاید ہی کوئی ایسا ضلع ہو جو عطائیوں سے بچا ہوا ہو ہزارواں کی تعداد میں یہ عطائی لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں اور بڑی بہادری سے یہ مجرمانہ فعل سرانجام دے رہے ہیں ان کے اپنے اپنے روپ ہیں.اور یہ مختلف بھیس بدل کر لوگوں میں موت کا سامان بانٹ رہے ہیں کسی نے بہت بڑا کلینک، کسی نے نجی ہسپتال ،گائنی ہسپتال تو  کوئی بہت بڑے حکیم کے روپ میں بیٹھا ہوا ہے ڈاکٹر صاحب اپنے نام کے ساتھ بہت بڑا ڈاکٹر صاحب جوڑ کر لوگوں سے لاکھوں روپیہ کما رہے ہیں اور حکیم صاحب لوگوں کو نہ جانے کون سی طلسمی ادویات دیتے ہیں کہ لوگوں کا ایک ہجوم ان کے جعلی دواخانوں پر ہمہ وقت موجود ہوتا ہے لوگ ایک مرض کا علاج کروانے آتے ہیں اور عمر بھر کے لیے کوئی بڑی بیماری تحفہ میں لے کر جاتے ہیں لاہور جیسے بڑے شہر کے پوش علاقوں میں ایسے جعلی ڈاکٹر اپنے پورے ٹھاٹھ کے ساتھ جعلی کلینک بنا کے بیٹھے ہوئے ہیں اور دیہاتوں میں ایسے ڈاکٹروں کا اپنا طریقہ واردات ہے کسی نے میڈیکل سٹور بنایا تو ساتھ لوگوں کو دوائیں دے رہا ہے اور ٹیکے لگا رہا ہے ایک ایسے ڈاکٹر صاحب تو میں نے خود بہت عرصہ پہلے قصور کے ایک  دور دراز کےگاؤں میں دیکھے جن کا کاروبار کچھ ایسے تھا ڈاکٹر پلس سبزی شاپ پلس فروٹ شاپ پلس کریانہ سٹور پلس فارمیسی اب آپ خود  دیکھیں کہ ڈاکٹر اس ملٹی بزنس کلینک کو کیسے چلاتا ہوگا اور جب میں نے گاؤں کے لوگوں سے سوال کہ آپ ایسے ڈاکٹر سے دوائی کیوں لیتے ہیں؟  تو آگے سے لوگوں کا ردِ عمل کچھ یوں تھا کہ : ڈاکٹر صاحب تاں بڑے چنگے بندے نے سانوں تے ہر شے ڈاکٹر ہوراں دے کلینک توں ای لب جاندی اے ایہہ تے بہت وڈی سہولت اے . بات تو ان لوگوں کی کافی حد تک درست تھی وہ ڈاکٹر ان لوگوں کو موت کے منہ میں پہنچانے کے لیے ایک سہولت کار کا کام ہی تو سر انجام دے رہا تھا . یہ تو دیہاتوں کی صورتِ حال ہے اب  میں شہر کی طرف آؤں گا شہر میں بہت پڑھے لکھے لوگ ایسے عطائی ڈاکٹروں کے ہتھے چڑھ رہے ہیں اور کسی پڑھے لکھے بندے کو پتہ چل بھی جائے کہ فلاں بندہ عطائی ڈاکٹر ہے تو اس کی شکایت نہیں کرتے وہ کہتے ہیں ہمیں اس سے کیا غرض لوگوں کی یہی لاپرواہی ایسے عطائی ڈاکٹروں کی دن دگنی رات چگنی ترقی کا باعث بن رہی ہے ایسا نہیں کہ ایسے عطائی ڈاکٹروں کے پاس محکمہ ہیلتھ کی کوئی ٹیمیں نہیں آتی یا کوئی افسر چھاپا نہیں مارتا افسر آتے ضرور ہیں مگر خالی ہاتھ نہیں جاتے بلکہ اپنی منتھلی میں اضافہ کروا کر جاتے ہیں پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن بھی اس معاملے میں خاموش تماشائی بنا ہوا ہے  2018 کے سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت پنجاب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے تیار کردہ لسٹوں کے مطابق پنجاب بھر کے اضلاع  کو 10 ریجنز میں تقسیم کیا گیا جن میں جعلی و عطائی ڈاکٹروں کے کلینک تھے. مرتب کردہ لسٹوں اور ان 10 ریجنز میں بتائی گئی تعداد کے مطابق پنجاب بھر میں 3143 عطائی و جعلی ڈاکٹر کام کر رہے تھے جبکہ حقیقی اعداد و شمار اور محکمہ  کی جاری کردہ لسٹوں میں زمین اور آسمان کا فرق تھا پھر کاروائیاں بھی کی گئیں جعلی کلینک سیل بھی کیے گئےبھاری جرمانے بھی کئے گئے لیکن ہوا کیا کچھ بھی نہیں بس کچھ عرصہ عطائیوں کےاڈے بند رہے  ان میں سے اکثریت نے اپنی دوکانیں دوبارہ  کھول لیں .اور پھر سے  لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنا شروع کر دیتے ہیں پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن بھی ہر وقت ان ایکشن نظر آتا لیکن پھر ایسی کیا وجوہات ہیں جو ایسے کھلے قاتلوں کو قابو میں نہیں کیا جاسکتا بار بار سپیشل آپریشن  کیے جاتے ہیں لیکن ان عطائیوں کو قرار واقع سزا نہیں ملتی آئے دن کسی نہ کسی معصوم کی جان ان جعلی ڈاکٹروں کے ہاتھوں جانے کی خبریں گردش کرتی ہیں پھر بھی ان ایکشن محکمہ کی طرف سے کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا لگتا ہے ان عطائیوں کی پہنچ اوپر تک ہے

mahmoodnizami143@gmail.com

google.com, pub-9821533189288546, DIRECT, f08c47fec0942fa0
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close