کالم

اسلامی تعلیمات اور ہمارے انداز

کیوں نہ آج اسلامی تعلیمات کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے۔ کیوں نہ آج آپ کے ضمیر کو تھوڑا جھنجھوڑا جائے۔کیوں نہ آج مقصد تخلیق کائنات کی معرفت کو آپ کے سامنے لایا جائے۔اور کیوں نہ آج اسلام جیسے عظیم  مذہب میں داخلہ لینے کے بعد کی فرائض و ذمہ داریوں کو دل کے نہاں خانے میں اتارا جائے۔میرے خیال میں آج ایسا ہو جانا چاہئے۔کیونکہ محدود سوچوں کو لا محدود بنانے کیلئے عقل کو روشن کرنا بہت ضروری ہے۔اگر ایسا نہ کیا جائے تو محدود نظریات اور خیالات محدود عقل رکھنے والوں کے دل کے نہاں خانے میں ہی دفن ہو جاتے ہیں۔ معزز قارئین۔معذرت کے ساتھ ہمارے سوئے ہوئے بلکہ مرے ہوئے ضمیر کو جگانے کیلئے آج ایک ایسے عنوان کا انتخاب کیا ہے جو ایک لامحدود نظریات کا مالک ہے۔جس کی وسعت اور گہرائی لامحدود سوچوں کی رہنمائی کرتی ہے۔جو اسلامی طرز زندگی کو اپنانے اور پھیلانے والوں کیلئے ایک بہترین پلیٹ فارم ہے۔ یقین مانیں میری اس ناچیز کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ میں ایسے الفاظ کا چناؤ کروں جو ایک عام سائیکل چلانے والے کے دماغ  اور دل میں پیوست ہوجائیں۔ان کو بھی اس بات کی سمجھ آجائے کہ میرے لکھنے کا مقصد کیا ہے۔ میری پوری کوشش یہی ہوتی ہے کہ سیاسی موضوعات کو کم سے کم چھیڑا کروں۔علمی موضوعات کو پرکھنا اور اپنا مشاہدہ پیش کرنا میں اپنے لیے فرض سمجھتا ہوں۔کیونکہ عوام پاکستان سیاسی موضوعات کو پڑھتے پڑھتے تھک چکے ہیں۔ان کے نزدیک اب سیاسی موضوع پر لکھے ہوئے آرٹیکلز کوئی وقعت اور اہمیت نہیں رکھتے۔اب وہ ایسے لکھے ہوئے آرٹیکلز کو اہمیت دیتے ہیں جو ان کی تہذیب کی عکاسی کرے۔معزز قارئین۔الفاظ لکھنے کیلئے بہت ہیں۔لیکن مقصد آپ کو سمجھانا ہے اگر میں بہت ہی سخت الفاظ کا چناؤ کروں گا تو ہو سکتا ہے کہ میرے لکھے ہوئے الفاظ کسی کو سمجھ نہ آئیں۔اگر بلکل سادہ الفاظ لکھوں تو ہو سکتا ہے کہ بہت ہی زیادہ اہل علم لوگ مذاق بھی اڑائیں۔لیکن مقصد صرف اور صرف آپ کے نظریات کو ٹھیک کرنا ہے۔معزز قارئین۔زیادہ تفصیل میں جانے سے پہلے میں آپ کو ایک سادہ سی مثال دیتا ہوں۔ جب انسان ایک سکول میں داخلہ لیتا ہے تو داخلہ لینے کے بعد اس پر تمام سکول کی پابندیاں عائد ہو جاتی ہیں۔سبق یاد کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ تو بعد میں شروع ہوتا ہے پہلے ایک طالب علم کو سکول میں نافذ اصولوں کو فالو کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ زور دیا جاتا ہے۔مثال کے طور پر سکول میں سکول کی وردی کے بغیر داخلہ ممنوع ہوتا ہے۔سکول میں حاضری کی شرح سب سے زیادہ ہونی چاہئے۔سکول میں کسی چیز کی توڑ پھوڑ نہیں ہونی چاہئے۔سکول کے اندر اور باہر ادب کا مظاہرہ ہونا چاہئے۔سکول کے اندر اور باہر اساتذہ کا احترام اور عزت ہونی چاہئے۔ صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔ان اصولوں کو فالو کرنے کے ساتھ ساتھ کتابوں کی تعلیم دی جاتی ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر ایک طالب علم زیادہ محنت کرے گا تو وہ کامیاب ہو جائے گا جو محنت نہیں کرے گا وہ ناکام ہو جائے گا۔لیکن قابل سوچ بات یہ ہے کہ جو طالب علم فیل ہوجاتا ہے اس کو بھی سکول کے قوانین توڑنے کی اجازت نہیں ہوتی۔یہ تمام باتیں اور پابندیاں صرف ان طالب علموں پر نافذ ہوتی ہیں جو سکول میں داخلہ لیتے ہیں۔ جو سکول میں داخلہ نہیں لیتے وہ لوگ ان تمام پابندیوں سے آزاد ہوتے ہیں۔ان کو کسی قسم کی کوئی روک ٹوک نہیں ہوتی کہ وہ سکول آئیں یا نہ آئیں۔وردی پہنیں یا نہ پہنیں۔سکول کا کام کریں یا نہ کریں۔بھلا کیوں؟ کیونکہ انہوں نے سکول میں داخلہ ہی نہیں لیا ہوتا ۔وہ مکمل آزاد ہوتے ہیں۔اگر ایک طالب علم جو سکول میں داخل ہو اور وہ ایک غیر طالب علم کی طرح یا اس کے ساتھ مل کر سکول میں داخل ہونے کے باوجود غیر حاضری کرے۔ سکول سے ملنے والے کام کو کرنے کی بجائے اس سے باغی ہو جائے۔ سکول کے تمام رولز کو پیروں کے نیچے روندھ ڈالے۔ تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ سکول سے  خارج کر دیا جائے گا۔اس کا نام سکول سے خارج کردیا جائے گا۔اب وہ بھی ایک غیر داخل فرد کی طرح رہ جائے گا۔اس طرح کی تمہید باندھنے کا مقصد صرف اور صرف آپ کو ایک اہم نقطہ آگے چل کر سمجھانا ہے۔فرض کریں۔۔۔فرض کریں کہ اسلام ایک سکول ہے۔جس شخص نے اسلام کے سکول میں داخلہ لے لیا۔اسلام کا چناؤ کر لیا اس شخص پر اسلام کی عائد کردہ تمام پابندیاں واجب ہو جاتی ہیں۔ نماز, روزہ,حج,زکوٰۃ,صدقہ و خیرات,بھائی چارہ,ایمانداری,انصاف پسندی,برد باری وغیرہ وغیرہ۔اور دیگر تمام اسلامی عمل جو دین اسلام میں ایک مسلمان پر اسلام قبول کرنے کے بعد فرض ہو جاتے ہیں۔جو شخص اسلام کے سکول میں داخلہ نہیں لیتا اس پر اسلامی تعلیمات کی پیروی کرنا فرض نہیں ہوتا۔کیونکہ اس نے اسلام کے سکول میں داخلہ ہی نہیں لیا۔وہ کیسے اس میں نافذ قوانین کی پاسداری کر سکتا ہے؟ اور جو افراد غیر داخل شدہ افراد کی طرح اسلامی قوانین کی پاسداری نہ کریں اور ان کے ساتھ مل کر اسلامی تعلیمات کی دھجیاں اڑاتے جائیں۔تو وہ بھی ایک سکول سے خارج ہونے والے طالب علم جیسا مقام حاصل کر سکتے ہیں۔معزز قارئین۔بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔آج ہم اسلام کے سکول میں داخلہ لینے کے بعد اسلامی قوانین کی پاسداری نہ کر سکے۔ جب انسان اسلام کے سکول میں داخل ہوتا ہے۔دین اسلام پر ایمان لاتا ہے تو اس کے بعد اس پر تمام اسلامی کام واجب ہو جاتے ہیں۔ لیکن آج ہم سب کچھ بھول گئے۔ہم نے دین اسلام پر ایمان لانے کے بعد بھی غیر مسلموں کے طرز زندگی کو اپنایا۔اور سمجھا کہ شاید وہ کامیاب ہو جائیں گے۔لیکن ہم نے یہ نہ سوچا کہ انہوں نے تو سکول میں داخلہ ہی نہیں لیا وہ کامیاب کیسے ہو جائیں گے۔آج مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت مکمل طور پر تبدیل ہو گئی۔اور ستم ظریفئ وقت دیکھیں آج نوجوان نسل کی مکمل تہذیب و ثقافت ہی بدل گئی۔ہم نے اسلام سے ملنے والے سبق کو یاد کرنے کی بجائے اسے بیچ دیا۔ ہم نے قرآن مجید جیسی مقدس کتاب کو پڑھنے اور اس سے رہنمائی حاصل کرنے کی بجائے فیس بک, یوٹیوب, اور ٹک ٹاک سے رہنمائی حاصل کرنے پر زور دیا۔سکولِ اسلام میں داخل ہونے والے افراد اور خواتین جو آج اسلام کے سکول میں داخل ہونے کے باوجود اسلام جیسے عظیم ترین مذہب کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ان کی طرف دیکھیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ جنہوں نے غیر مسلموں کو پردے اور مکمل لباس کا حکم دینا تھا۔جب وہی جینز اور تنگ لباس پہنے اور  پردے کے بغیر گھروں سے باہر نکلنے پر فخر محسوس کریں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ہمارا مذہب اسلام تو اس بات کا درس دیتا ہے کہ ایک عورت کسی غیر محرم سے بات اور کسی مرد سے تعلیم حاصل نہیں کر سکتی۔اور جن خواتین و حضرات کو یہ بھی نہیں پتہ کہ ہم نے صفائی کے اصولوں کو پورا کرتے ہوئے اپنے بڑے ہوئے ناخن کب کاٹنے ہیں۔کیا ان کو باقی اسلامی اقدار کا پتہ ہو سکتا ہے؟ لیکن آج سبھی پتہ نہیں کس خوش فہمی میں مبتلا ہیں۔ان کو پتہ ہی نہیں کہ بارات جا کہاں رہی ہے۔میں ایک بار پھر یہی بات دہرا رہا ہوں کہ ایک شخص سکول میں داخل نہ ہو تو وہ امتحان میں کامیاب نہیں ہو سکتا اور جو شخص اس کے ساتھ مل کر سکول کے قوانین سے باغی ہو جائے وہ کیسے کامیاب ہو سکتا ہے؟ اس کا تو نام ہی خارج ہو سکتا ہے۔اب بات کرتے ہیں آج کے ہوا کے دوش میں اڑنے والے شہسواروں کی۔ جن کی خاک لائق تعزیم ملائک تھی۔لیکن آج وہ اسلام سے دوری کی وجہ سے عرش کی بلندیوں سے گرائے جانے کے بعد فرش کی پاتال میں جا بسے ہیں۔آج ان کی آنکھوں میں پڑے پردے تو دکھائی دیتے ہیں۔افسوس یہ پردے شرم و حیا کے نہیں بلکہ بے شرمی اور بے حیائی کی جالیاں ہیں۔آج ان کی سماعتوں سے ٹکرانے والی آواز تو سنائی دیتی ہے۔افسوس صد افسوس یہ آواز کوئی اسلامی طرز عمل کی آواز نہیں بلکہ چند مکروہ گھنگرووں کی چھنکار ہے حد تو یہ ہے وہ صحراؤں میں اذانیں دینے والا مسلمان آج لب و رخسار کی باتیں کرتا ہے۔ تو دل سے یہی آواز نکلتی ہے کہبعد میں شکوہ اہل عالم کرو۔۔پہلے ایمان والوں کا ماتم کرو۔۔کیسے شیدائی ہم اسلام کے رہ گئے۔ہم مسلمان فقط نام کے رہ گئے۔۔۔معزز قارئین۔مہربانی فرمائیں۔دین اسلام کو سمجھنیں کی کوشش کیجیے۔اس کے قوانین پر عمل کرنے کی کوشش کیجیے۔اس مذہب کا مذاق اڑانے سے اجتناب کیجیے۔ جو لوگ اسلام کے سکول میں داخل ہی نہیں ہوئے وہ کامیاب نہیں ہوسکتے وہ ہمارے دوست کیسے ہو سکتے ہیں؟ ان کی تعلیمات کو اپنانے سے ہمیں گریز کرنا چاہئے۔کیونکہ ان کی صحبت کو اپنا کر ہم بھی خارج ہو سکتے ہیں۔۔۔۔سوچیے۔۔۔سوچیے۔۔۔ابھی بھی شاید وقت ہے۔۔اللہ پاک بہت مہربان اور رحم کرنے والا ہے اگر کوئی مہربانی اور رحمت کا طلب گار ہو تو وہ ضرور مہربانی اور رحم فرماتا ہے۔

google.com, pub-9821533189288546, DIRECT, f08c47fec0942fa0
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close