کالم

ہم آسودہ مستقبل کے متلاشی۔۔۔

کیا یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ کوئی فرد کسی دوسرے فرد کو اس کے سامنے اس کو گندی گالیوں سے نوازے اور وہ اس کے منہ سے اپنے بارے میں غلط خیالات سن کر اس کو دعائیں دیتا چلے۔ اور جس نے گالی اور بدکلامی کا آغاز کیا ہے وہ گالی سننے والے سے نیک الفاظ وصول کرنے کا خواب دیکھے۔۔نہیں ۔۔۔ایسا ممکن نہیں ہے۔عقلِ سلیم  اس بات سے روگردانی کرتی ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہے۔وہ گالی کے بدلے آپ کو گالی ہی دے گا۔۔وہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی بھرپور کوشش کرے گا۔لیکن وہ نیک خواہشات کا اظہار نہیں کرسکتا۔ہمارے معاشرے کا بھی یہی المیہ ہے۔آج انشااللہ ایک بار پھر قارئین کو سچ پڑھنے کا موقع ملے گا۔میں کہہ رہا تھا کہ ہمارے معاشرے کا بھی یہی المیہ ہے کہ ہم گالی کے بدلے اپنے مخالفین سے دعائیں سننا چاہتے ہیں۔اپنی ہٹ دھرمی اور جسے کہتے ہیں نہ ضد۔۔۔اپنی ضد برقرار رکھتے ہوئے اگلے آدمی سے بزدلی کی توقع رکھتے ہیں۔ہم صرف سوال کا جواب سننا چاہتے ہیں۔کوئی اگلا شخص اگر سوال کر دے تو ہم غصے میں آجاتے ہیں۔ مجھے ایک شعر یاد آگیا۔بہت کمال کا لکھا ہے۔شاید کسی نے ہماری حالتِ زار کو دیکھتے ہوئے ہی لکھا ہو گا۔جب میں نے پہلی بار سناتھا وہ شعر تو آپ یقین کریں کہ میں ایک دم عجیب سی کیفیت کے ساتھ عجیب سے دنیا میں کھو گیا۔جہاں پر صرف مفاد پرست ,منافق, بے رحم,احسان فراموش, اور اپنی انا پر برقرار رہنے کے بعد نقصان کا دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانے والے,احمق,اور چند ناعاقبت اندیش طبلچی مجھے پاتال میں پڑے نظر آئے۔وہ شعر کون سا تھا۔آپ بھی پڑھیں۔۔۔
“کچھ لوگ بچھا کر کانٹوں کو گلشن کی توقع رکھتے ہیں۔
شعلوں کو ہوائیں دے دے کر ساون کی توقع رکھتے ہیں۔
ماحول کے تپتے صحرا سے حالات کی اجڑی شاخوں سے۔
یہ اہل ستم پھولوں سے بھرے دامن کی توقع رکھتے ہیں۔”
یہ شعر میرے آج کے عنوان کی بھرپور عکاسی کر رہا ہے کہ ہم خوشحال مستقبل کے متلاشی تو ہیں لیکن ہم کھڑے کہاں ہیں؟ اور کر کیا رہے ہیں؟ پہلے اس کا جواب تو اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکا جائے۔۔ہم سے کہا گیا تھا کہ “نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر”۔ لیکن ہم نے “گنوا دی جو اسلاف سے میراث پائی تھی”۔ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ کچھ لوگ,لوگوں کے ذہنوں میں ایک دوسرے کے خلاف آگ بھڑکا کر امن و سکون کی بڑی توقع رکھتے ہیں۔توقع کیوں نہ رکھیں۔۔۔کیونکہ ہم آسودہ مستقبل کے متلاشی ہیں۔کسی بھی معاشرے یا قوم کے مستقبل کو جانچنا ہو تو اس کے حال کو دیکھ کر اس کے مستقبل کا اندازا لگایا جاتا ہے۔ہمارا مستقبل کیا ہو گا۔؟ ہمارا حال ہی عمیق ترین گڑھوں میں تلاشِ منزل پر مشتمل ہے۔مجھے میری زندگی میں ہونے والا ایک عجیب واقعہ یاد آگیا جو چند دنوں پہلے میرے ساتھ رونما ہوا تھا۔سوچا اپنے معزز قارئین کے ساتھ بھی شیئر کرتا چلوں۔آپ یقین کریں اس واقعے نے میرے چودہ طبق روشن کردیے۔کہ ہم آسودہ مستقبل کے متلاشی ہیں؟ ہم۔۔۔جو کسی غیر موضوع بات کا بتنگڑ بنا کر لوگوں کو قتل کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔مجھے یہ دیکھ کر دلی دکھ ہوا۔چلیں آپ کو بھی بتاتا ہوں۔اتوار کا دن تھا۔سارا دن گرمی کے بعد شام کو موسم کافی خوشگوار ہو گیا۔ہلکی بارش اور ٹھنڈی ہوا نے لوگوں کے دل خوش کر دئے۔میں بھی موسم کا مزہ اٹھانے نزدیکی کھیل کے میدان میں چلا گیا۔وہاں  خوبصورت موسم کا خوبصورت  منظر پیش آنے لگا۔ہر طرف سبزہ ہی سبزہ ۔۔آسمان پر گہرے کالے بادل۔۔اللہ کی قدرت کے پر لطف نظارے۔ ہر طرف سکون ہی سکون۔۔میں سب کچھ دیکھتا رہا اور خوشی محسوس کرتا رہا۔کہ اللہ پاک کتنا بے نیاز ہے۔۔۔اور اللہ پاک اپنے بندوں پر کتنا رحم کرتا ہے۔۔سارا دن شدید گرمی کے بعد اللہ پاک نے ہمیں خوبصورت اور خوشگوار موسم کا تحفہ دیا۔میں یہ سب باتیں سوچھ ہی رہا تھا کہ دو آدمی میری طرف آرہے تھے اور ایک دوسرے سے کافی خفا خفا نظر آرہے تھے اور ایک دوسرے سے غصے سے باتیں کر رہے تھے۔۔مجھے نہیں پتا تھا کہ کس موضوع پر بات کررہے تھے۔۔پھر وہ میرے قریب ہی آگئے ۔۔۔ابھی بھی وہ باتیں کر ہی رہے تھے۔۔۔۔میں نے پوچھا۔۔”کس موضوع کو لے کر آپ اتنا غصہ ہو رہے ہو اتنے خوبصورت موسم میں” ان میں سے ایک آدمی بولا۔۔۔”یار ساجد یہ آدمی عمران خان کا حامی ہے اس کو پتہ ہی نہیں کہ اس نے ملک کا بیڑا غرق کر دیا ۔۔۔۔غریبوں کو مار رہا ہے وہ۔۔۔اسے احساس نہیں ہے۔۔۔وغیرہ وغیرہ ۔۔” وہ مجھ سے مخاطب ہو کر یہ باتیں کر رہا تھا۔۔۔ساتھ ہی دوسرا آدمی بولا۔۔۔۔اس نے بھی انہی الفاظ میں بات کی لیکن نواز شریف کی مخالفت کر کے۔۔۔یعنی وہ چور تھا۔۔۔۔کرپٹ تھا۔۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ ۔۔۔پھر اسی طرح وہ باتیں کرتے کرتے مغلظات کا استعمال کرنے لگے۔۔۔میں یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا اور سن رہا تھا۔اور دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ ہمارا مستقبل کیا ہو سکتا ہے؟۔۔۔۔پھر وہ آہستہ آہستہ ایک دوسرے کی ماں اور بہن کو گالیاں دینے لگے۔۔۔یہ مجھے برداشت نہ ہوا۔۔۔کیونکہ مائیں ۔۔۔تو مائیں ہی ہوتی ہیں نہ۔۔۔۔اور بہنیں ۔۔۔بہنیں ہوتی ہیں۔۔۔۔پھر میں بھی اس لڑائی میں کود پڑا۔۔۔۔میں نے ان دونوں کی خاموش کروانے کی پوری کوشش کی۔۔۔۔برکیف وہ خاموش ہوگئے۔۔۔۔2 یا 3 منٹ کی خاموشی کے بعد میں نے گفتگو کا آغاز کیا۔۔۔۔۔میں نے ان سے پوچھا کی آپ ایک دوسرے کے کیا لگتے ہیں۔۔۔۔ایک بولا۔۔۔ہم دوست ہیں۔   میں نے کہا ۔۔۔۔کب سے۔۔۔دوسرے نے کہا کہ 10 سالوں سے۔۔۔۔پھر میں شروع ہو گیا ۔۔۔۔اور ان سے کہا کہ آپ کو تھوڑی تھوڑی شرم تو آرہی ہو گی۔۔۔۔آپ ایک ایسے موضوع کو لے کر مغلظات کا استعمال کر رہے ہیں کہ اگر آپ ایک دوسرے کو قتل بھی کر دیں تو ان کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔۔۔۔گھر آپ کے اجڑیں گے۔۔۔دوستی آپ کی ختم ہو گی۔۔۔وہ نواز شریف۔۔۔وہ عمران خان۔۔۔وہ زرداری آپ کو پوچھنے نہیں آئے گا۔۔آپ کے گھر والوں کی خبر نہیں لے گا۔۔۔۔ان میں سے ایک نے شرمندگی کے باعث تھوڑا سر ہلایا۔۔۔۔پھر میں نے اور وضاحت کرتے ہوئے کہا۔۔۔کہ آپ جن لوگوں کو ووٹ دیتے ہو۔۔۔۔جب وہ ایم۔این۔اے یا ایم۔پی۔اے بنتے ہیں۔کبھی بھی کسی نے بھی آپ کے گھر کی کوئی خبر لی۔۔۔؟چاہے وہ کسی بھی پارٹی سے ہو۔۔۔ اس پر انہوں نے کہا کہ نہیں۔۔۔۔پھر میں نے ان سے کہا کہ آپ ان کی خاطر اپنی دوستی کو توڑنے پر کیسے راضی ہوسکتے ہیں۔۔۔؟اس بات پر دونوں نے سر ہلایا ۔۔۔۔اور شرمندہ ہوتے ہوئے ایک دوسرے سے گلے ملے مجھ سے سلام لیا۔۔۔ایک دوسرے کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے چل پڑے۔۔موسم بہت سہانا تھا۔۔میں وہاں بیٹھا رہا اور کافی دیر تک اسی واقعے کے بارے سوچتا رہا۔۔۔کہ ان لوگوں کی عقل گھاس چرنے گئی تھی کہ ایک بیکار موضوع کو لے کر ایک دوسرے کا سر پھاڑنے پر مجبور ہو گئے تھے۔۔۔۔مجھے بہت دکھ ہوا۔۔۔۔پھر میں نے سوچا کہ پاکستان میں کتنے لوگ اس نان ایشو کو ایشو بنا دیتے ہیں۔جن کا حال ایسا ہو ان کا مستقبل کیسا ہو گا؟ آپ خود ہی اندازہ لگا لیں۔اگر ہمیں روشن مستقبل کی تلاش کرنی ہے تو ہمیں اپنا رویہ بدلنا ہو گا۔جب تک ہمارے انداز ,ہمارے رویے نہیں بدلیں گے آسودہ مستقبل کا خواب ,خواب ہی رہے گا۔حقیقت کبھی نہیں بنے گا۔اور ویسے بھی خواب دیکھنے پر تو کوئی پابندی نہیں ہے۔

sajidshmmas03@gmail.com

google.com, pub-9821533189288546, DIRECT, f08c47fec0942fa0
Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close