کالم

"تھرو پراپر چینل”

 جب میں نے یہ لفظ ایک کتاب میں پڑھا تو میں نے سوچا کیوں نہ مزید اس کی تفصیل پڑھی جائے کیونکہ مجھے یہ محسوس ہوا بلکہ بہت کامل حد تک یقین ہوا کہ ہمارا معاشرہ بھی اسی تھرو پراپر  چینل کے زیر اثر کام کر رہا ہے اس قسم کا نظام معاشرے کی تباہی و بربادی کا سبب بنتا ہےایسے نظام سے کرپشن ناانصافیاں بدعنوانیاں جنم لیتی ہیں اس نظام کے تحت کام کرنے والے محنتی لوگ پیچھےرہ جاتے ہیں جبکہ نکمے اور خوشامدی لوگ ترقی کی منازل طے کرتے چلے جاتے ہیں
کرپشن اور معاشرتی ناانصافی کا موجب بننے والے بہت سے عوامل میں تھرو پراپر چینل فی زمانہ ایسی بیماری ہے جس نے کرپشن کی پرورش میں اہم کردار ادا کیا "تھرو پراپر چینل کا تاریخی پس منظر”عباسی خلفاء کا سورج غروب ہو رہا تھا دربار خوشامد پرست اور سازشی ٹولے سے بھر چکا تھا اس دور میں 597 ہجری میں امام رضا کے مدفن شہر مشہد سے چند میل دور طوس کے علاقے میں تاریخ کی ایک عظیم شخصیت نصیرالدین طوسی نے جنم لیا طوس علم و عرفان کی سر زمین ہے یہاں علم کے اتنے چراغ روشن ہوئے ہیں کہ گننا مشکل ہے نصیرالدین طوسی کو ان کے اساتذہ سے ریاضی اور فلسفے کا علم حاصل کرنے کا موقع ملا اور پھر وہ امیر ناصرالدین حشم کےدربار میں پہنچا جو اس وقت قہستان کا والی تھا ہے اس نے طوسی کا خیر مقدم کیا اور اسکی قدر و منزلت کی اور اسے تمام سہولیات مہیا کیں جو کے ایک محقق کے لئے ضروری تھیں طوسی نے یہیں اپنی شہرہ آفاق کتاب اخلاق ناصری لکھی جسے دنیا بھر میں اخلاقیات کی سب سے اہم کتاب سمجھا جاتا ہے نصیر الدین طوسی اپنے علمی مشاغل میں مصروف تھا کہ بغداد میں معتصم باللہ تخت نشین ہوگیا اور ابنِ العقمی ویزیر مقرر ہوا جوکہ ایک عیار اور چال باز شخص تھا.  اس وقت کی ایک مروجہ رسم کی پیروی میں نصیر الدین طوسی نے بھی مبارکباد کا خط بادشاہ کو تحریر کیا یہ خط انتہائی خوبصورت قصیدہ نما تھا طوسی کے علم کی شہرت پہلے سےہی دربار تک پہنچی ہوئی تھی طوسی کا یہ خط جسے قصیدہ غرا کہا جاتا ہے جب وزیر ابن علقمی کے پاس پہنچا تو اس نے سوچا کہ اگر یہ قصیدہ خلیفہ کو دکھایا گیا تو وہ طوسی کو دربار میں ضرور بلائے گا اور پھر اس کے علم کے سامنے کسی کی نہ چل سکے گی ابنِ علقمی کو اپنی وزارت ڈولتی محسوس ہوئی لیکن اسے خط پھاڑ کر پھینکنے سے مسئلے کا حل ہوتے نظر نہ آیا کیونکہ اس نے سوچا کہ کل کوئی بھی خلیفہ کے سامنے طوسی کی تعریف کر سکتا ہے اور اسے دربار میں جگہ مل سکتی ہے ابن علقمی کے عیار ذہن نے ایک خوبصورت لفظ ایجاد کیا اور دنیا بھر کی بیوروکریسی کے ہاتھ میں اپنے ماتحتوں کو دبانے کا ہتھیار دے دیا اس خط کے جواب میں قہستان کے والی کو لکھا کہ یہ خط” ترک توسط” ہے یعنی Through Proper Channel نہیں ہےاور والیِ قہستان کو لکھا کہ تمہارے ایک ماتحت کی غلطی کی سزا تم کو بھی مل سکتی ہے اس نے ساتھ ایک نوٹ یہ بھی تحریر کیا کہ: مولانا نصیرالدین طوسی نے روئے زمین کے خلیفہ کے ساتھ براہ راست خط و کتابت کی جرات کی ہے جب یہ خط جس میں یہ نوٹ تھا والی قہستان کے پاس پہنچا تو اپنے انجام کے خوف کے سبب اس نے صفائی کا موقع دیئے بغیر ملتِ اسلامیہ کے اس نامور عالم کو قید خانے پھینک دیا جہاں وہ بغیر کوئی مقدمہ چلائے پندرہ سال تک قید رہا لیکن قید علم کا راستہ کہاں روک سکتی ہے اس نے دورانِ  اسیری بوعلی سینا کی تصنیف اشارات کی شرح لکھی جو آج دنیا کی اہم یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی ہے اور پھر جب 655 ہجری میں ہلاکو خان نے الموت کو فتح کیا تو اس محقق کو قید سے رہائی ملی ہلا کوخان ظالم تھا لیکن اس میں بیوروکریسی کی طرح بد نیتی اور حسد نہیں تھا اس کے ہاں کوئی” تھرو پراپر چینل” نہیں تھا جب اسے طوسی کے علم کا پتہ چلا تو اس نے 657 ہجری میں تبریز میں ایک رصدگاہ بنائی اور طوسی کو اسکا کانچارج بنا دیا یہاں پر توسی نے  ریاضی کے وہ اصول وضع کیے جن پر صدیوں تک یورپ میں اس علم کی بنیاد قائم رہی  parallol postulat کا نظریہ اس نے دیا Trignometry علم المثلثات الکرویہ کو مستقل حیثیت دی اس نے تقریباً ڈیڑھ سو تصانیف لکھیں جو فلسفہ اور ریاضی میں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں اور یورپ کی جامعات میں پڑھائی جاتی ہیں ادھر ابن علقمی کا نام بھی صرف اس لیے تاریخ میں رہ گیا کہ اس نے ہلاکوخان  سے ملکر عباسی خلیفہ کے خلاف شازش کی اور اسے شکست سے دوچار کروایا ورنہ شاید مؤرخ اس کی جگہ بس وزیر کا لفظ لکھ کر  ہی خاموش ہو جاتے کام کرنے والے ماتحت  اور نکمے باس کے درمیان یہ جنگ آج بھی جاری ہے  حکمران ٹولہ بھی اس کی زد میں ہے پاکستان کا  نوبل انعام یافتہ سائنسدان عبدالسلام جب تک لاہور کے کالج میں پڑھاتا رہا اس کے شعبے کے چیئرمین نے اسی پراپر چینل کے اختیار سے ان کی صلاحیت اور علم پر پابندی لگائے رکھے قدرت اللہ شہاب نے شہاب نامہ میں ایک فریادی کی داستان لکھی ہے  جو اپنے پٹواری سے تنگ آکر گورنر کو درخواست دیتا ہے اور پھر وہ درخواست  Through Proper channel سےہوتی ہوئی اسی پٹواری کے پاس پہنچ گئی کہ وہ اس پر اپنی رائے دے دے وہ اس پر لکھتا ہے کہ یہ درخواست گزار ایسی درخواستیں دینے کا عادی ہے اور افسران بالا کے قیمتی وقت کو ضائع کرتا ہے اسی رپورٹ پر تمام افسرانForwarded کا لفظ لکھتےہیں اور آخر میں گورنر ہر سائل کی درخواست داخل دفتر کر دیتا ہے  موجودہ دور میں بھی یہی وطیرہ چل رہا ہےفریادی اپنی فریاد پہچائے بھی تو کیسے اور کس تک اگر اس کی فریا ڈائریکٹ پہنچ بھی جائے یاحکمران عوام کے مسائل  سننے کے لئے ٹیلیفون  پر بھی رابطے کر لے  تو کوئی فرق نہیں پڑنے والا کیونکہ مسئلہ جو بھی ہواس کا حل ڈھونڈنے کے لیے تھرو پراپر چینل کا ہی طریقہ اپنایا جائے گا اور ابنِ علقمی جیسے خوشامد وزیر مشیر جہنوں نے وقت کے حکمران کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے اپنے عیار اور سازشی ذہن کے ذریعے سے صدائے حق کو دبانے کی کوششيں کرتے  رہیں گے

mahmoodnizami143@gmail.com

google.com, pub-9821533189288546, DIRECT, f08c47fec0942fa0
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close