کالم

تحفظ ناموس رسالت اور مجرمانہ خاموشی

تحریر:
محمد شہزاد بھٹی بھاول نگر

پاکستانی سیاست میں ہوس اقتدار کی خاطر لوگوں کے جذبات سے کھیلنے کو کوئی جرم ہی نہیں سمجھا جاتا- موجودہ وزیراعظم عمران خاں نیازی پاکستانی عوام کو بہت سے سبز باغ دکھا کے ریاست مدینہ بنانے کا نعرہ لگا کے اقتدار میں آئے مگر اب وہ اپنے دیگر تمام وعدوں اور نعروں کی طرح ریاست مدینہ بنانے کے وعدے اور نعر ے کو بھول چکے ہیں- پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کی بجائے وہ اس کو سیکولر ریاست بنانے کی طرف لے کے جا رہے ہیں ان کے حالیہ اقدام انکے وعدے اور دعوے کے منافی ہیں- کرتار پور باڈر سکھوں کے لئے،اسلام آباد میں ہندؤں کے مندر کی تعمیر،کئی سالوں سے لٹکا آسیہ ملعونہ کا کیس چند دنوں میں نمٹا کر اسے ملک سے فرار کروانے, ناجائز تجاوزات کی آڑ میں مساجد کو شہید اور بنی گالہ محل کو ریگولائز کرنے سے تو ظاہر یہی ہوتا ہے کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ہیں- موجودہ وزیراعظم عمران خاں نیازی ریاست مدینہ بنانے میں سنجیدہ نہیں کیونکہ ریاست مدینہ کے بانی نبی آخرالزماں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) باعث تخلیق کائنات ہیں آپکی اس دنیا میں تشریف آوری پوری انسانیت کے لئے باعث رحمت ہے دنیا و آخرت کی کامیابی آپ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے میں ہے فرانس میں حکومتی سرپرستی میں نبی آخرالزماں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کی شان میں گستاخی کرنے اور کارٹون بنانے سے پوری امت مسلمہ کے جذبات مجروح ہوئے مگر اب تک ریاست مدینہ بنانے کے دعویدار وزیراعظم عمران خاں نیازی کوئی بھی عملی اقدام کرنے سے گریزاں ہیں آخرکیوں؟ پاکستان عالم اسلام کا قلعہ ہے اس دلخراش واقعہ پر حکومت پاکستان کی طرف سے پوری امت مسلمہ کی ترجمانی کرتے ہوئے جو واضح پیغام جانا چاہئیے تھا وہ نہیں گیا- پاکستانی قوم کو معلوم ہے کہ تحفظ ناموس رسالت کے سلسلہ میں تحریک لبیک پاکستان کی جہدوجہد کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔حکومت پاکستان نے تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا اس معاہدے کے تحت تحفظ ناموس رسالت کے لئے دیا گیا دھرنا ختم کر دیا گیا جس میں یقین دہانی کروائی گئی وہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرینگے اور اپنے سفیر کو واپس بلا لیں گے اور سرکاری طور پر فرانس کہ تمام اشیاء کا بائیکاٹ کرینگے لیکن افسوس ابھی تک اس معاہدے پر عمل درآمد نہیں ہوا- آج اپوزیشن پارٹیوں نے اپنے سیاسی مقاصد کے حصول لئے ایک پلیٹ فارم پر پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے نام سے اتحاد کر لیا- کاش کہ یہی اتحاد تحفظ ناموس رسالت کے لئے بھی اسی طرح آواز بلند کرتا جس طرح یہ سب پارٹیاں اپنے اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے دن رات کوشاں ہیں اور آج کل کے دور جدید میں سوشل میڈیا کی اہمیت سے کسی صورت انکار نہیں کیا جا سکتا- آج کل ہر سیاسی پارٹی کی سوشل میڈیا ٹیمیں موجود ہیں جو اپنی اپنی سیاسی پارٹی کے لیڈرز کو بھرپور ڈیفینڈ کرتی ہیں مگر ان سب کی سوشل میڈیا پے تحفظ ناموس رسالت کے سلسلہ میں مجرمانہ خاموشی افسوسناک ہے-

google.com, pub-9821533189288546, DIRECT, f08c47fec0942fa0
Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close