کالم

ہم معاشی طور پر کمزور نہیں

تحریر
       “ساجد علی شمس”

اخلاق ایک ایسی چیز ہے جو کسی بھی انسان کو کسی بھی وقت اکیلا نہیں ہونے دیتا۔اسی کےبارے میں حدیث شریف ہے کہ” تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہے”آج میرا کالم لکھنے کا مقصد ان مصلحت اندیشوں کیلئے ایک آئینہ ہے۔جو وقت کے زوال کو اور اپنے اندازِ زبوں حالی کو معاشی بدحالی کا نام دیتے رہے ہیں اور دے رہے ہیں۔کالم لکھنے کا مقصد درست حقائق کو قارئین کے سامنے لانا ہوتا ہے۔اس کے سوا مقصد اور کچھ نہیں ہو سکتا۔کیونکہ سچ,جھوٹ سے بلکل برعکس ہوتا ہے۔چھپے رازوں کو قارئین کے سامنے عیاں کرنا ہوتا ہے جو پردے کے پیچھے راز ہی رہتے ہیں۔سرزمین پاکستان میں کئی عجیب و غریب نظریے رکھنے والے اور اپنے نظریے پر دوسرے لوگوں کو آمادہ کرنے کیلئے اپنی ساری زندگی وقف کرنے والے چند نا عاقبت اندیش لوگ اس بات کا ڈھول پیٹ رہے ہیں کہ پاکستان ہمیشہ معاشی بدحالی اور پستی کا شکار رہا ہے۔اس کو ہر چیز بیرونی ممالک سے منگوانی پڑتی ہے۔یہاں پر کھیلوں کے میدان ہمیشہ ویران رہتے ہیں۔یہاں پر ہر روز کچھ نہ کچھ ہوتا رہتا ہے۔وغیرہ وغیرہ یعنی کوئی نہ کوئی منطق داغ کر اسے معاشی بدحالی کا شکار بنانا ہے۔ان کا مقصد اپنی بات کو منوانے کیلئے اپنی ساری قوت وقف کر دینا ہوتا ہے۔لیکن اس بات کا ان کو بھی اندازا ہے کہ ہم معاشی بدحالی کا شکار قوم نہیں ہیں۔وہ لوگ اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ جو ملک چھپن اسلامی ممالک میں سے واحد ایٹمی ملک ہو۔وہ کیسے معاشی زبوں حالی کا شکار ہوسکتا ہے۔عجیب بات ہے ریاست ایٹمی ہو اور وہ معاشی طور پر کمزور ہو کچھ سمجھ نہیں آتا۔قارئین بھی اس بات کو خوب سمجھیں گے کہ اخلاقی بدحالی اور معاشی بدحالی میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔اخلاقی پستی ہی معاشی بدحالی کو جنم دیتی ہے۔معاشی پستی کا اپنا کوئی وجود نہیں۔یہ کسی دوسرے عنصر کی وجہ سے کسی ریاست میں اپنا گھر بناتی ہے اور پھر اس گھر کو تباہ کر کے بلکہ مکمل تباہ کر کے اس گھر میں رہنے والے لوگوں کو کسی عمیق ترین گڑھے میں تلاش منزل کیلئے چھوڑ دیتی ہے۔پھر اس گھر کو معاشی بدحالی کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔معاشی طور پر کمزور کرنے کی رفتار کو بڑھانے اور لوگوں کے ذہن کے دریچوں کو سرے سے جکڑنے میں اخلاقی رویوں کا بہت گہرا اثر رہا ہے۔جس کے متعلق پاکستان کی تاریخ بھری پڑی ہے۔سچ تو یہ ہے کہ ہم دور حاضر میں معاشی بدحالی کا شکار نہیں بلکہ اخلاقی بدحالی کا شکار ہیں۔معاشی طور پر پاکستان اس وقت تقریباً مضبوط ہے۔لیکن ہمارے اخلاق سے گرے ہوئے رویے اس کو معاشی طور پر کمزور کرنے کیلئے دن رات محنت کر رہے ہیں کہ کسی طرح یہ معاشی طور پر کمزور سے کمزور ہوتا جائے۔جس ملک کو چھپن اسلامی ممالک میں سے واحد ایٹمی ملک ہونے کا اعزاز حاصل ہو۔جو صنعتی شعبہ کے حوالے سے بہترین ملک جانا جاتا ہو۔زرمبادلہ کے حوالے سے اس کا ایک نام ہو۔ریلوے سسٹمز اور ہوائی سفر کے اختیارات  اس کے اپنے کنٹرول میں ہوں۔جس ملک میں سیاحت کے شعبے سے ہی اربوں روپے کا منافع کمایا جاتا ہو۔جو ملک مختلف چیزیں دوسرے ممالک کو برآمد کرتا ہو۔وہ کیسے معاشی پستی کا شکار ہو سکتا ہے؟اور ستم ظریفئ وقت دیکھیں جن لوگوں کے پاس ایک ایک لاکھ یا دودو لاکھ کے موبائل فونز ہوں۔رہنے کیلئے شاندار قسم کے بنگلے ہوں۔کروڑوں روپے کی گاڑیاں ہوں جن سے وہ کسی غریب کو آسانی سے کچل سکیں۔اربوں روپے کی پاکستان میں جائیدادیں ہوں اور بیرون ملک بھی کھربوں کا کاروبار کرتے ہوں۔جن کے بےشمار کارخانے اور ملز پاکستان میں بھی ہوں اور بیرون ملک بھی۔جن لوگوں کی گاڑیاں تو دور کی بات اپنے پرائیویٹ جہاز تک ہوں۔اور وہ لوگ بھی اس بات کا بھاشن دیں کہ ہم معاشی طور پر کمزور ہیں۔تو اس کا مطلب یہی ہو گا کہ “شرم تم کو مگر نہیں آتی”پاکستان حقیقت میں اس وقت معاشی بدحالی کا شکار نہیں بلکہ ہمارے اخلاق سے عاری رویوں نے اسے مشکلات میں جکڑا ہوا ہے۔دلیل کا وجود ختم ہو چکا ہے۔کیونکہ دلیل کیلئے مطالعہ بہت ضروری ہے۔سوشل میڈیا پر اخلاقیات سے گری باتیں سارا دن رقص کرتی رہتی ہیں۔ ماں,بہن,بیٹی کی عزت محفوظ نہیں رہتی۔اگر آپ کسی بات سے اختلاف رکھتے ہیں تو اس کا صرف ایک ہی جواب ہے کہ اخلاقیات سے گری باتیں۔ہم تعلیمات رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھلا بیٹھے۔امانت,دیانت,شرافت,صداقت,فراست,اور سخاوت نام کی چیزوں سے ہم کوسوں دور جا چکے ہیں۔ہم سب کچھ بھول گئے۔ہم یاداشت کھو بیٹھے۔ہمیں معلوم نہیں کہ ہم کس کے انتظار میں اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔اخلاق سے گری حرکتیں اور الفاظ معاشرے میں عام ہو چکے ہیں۔ہماری اخلاقی پستی کا اس سے بڑا اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ یہاں ایمرجنسی کی صورت حال میں دوائیں غائب ہو جاتی ہیں۔فیس ماسک,سینیٹائیزرز بلیک میں بکنے شروع ہو جاتے ہیں۔ایمرجنسی کی صورت حال میں ملک منافع خور طبلچیوں کے دائرے میں آجاتا ہے لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ہماری اخلاقی پستی کی وجہ بننے والے ہمارے بے رحم رویے چیخ چیخ کر بتا رہے تھے کہ پندرہ مارچ دوہزار انیس کو نیوزی لینڈ میں مسجد میں ہونے والی فائرنگ سے درجنوں مسلمان شہید ہوئے۔جس کا غم پوری دنیا میں منایا گیا۔لیکن ہم اگلے ہی دن میچ کے نام پر رقص و سرور کی محفل سجا لیتے ہیں۔میچ ہو رہا تھا یہ معاشی بدحالی نہیں تھی۔بلکہ شہادتوں پر افسوس نہ منانا اور رقص کرنا یہ اخلاقی پستی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ہم ڈسکو دیوانے کسے سنا رہے تھے؟ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم شہداء کے گھر والوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کیلئے پیش پیش تھیں۔پورے ملک میں دعائیہ تقریبات منعقد ہوئیں۔اور یہاں پر۔۔۔۔اخلاقی بدحالی تو یہ ہے کہ غریب حالات سے مجبور ہو کر کوڑے کے ڈھیر سے کھانا تلاش کرے اور امیر اس کی مالی معاونت کرنے کی بجائے اس کیلئے یہ الفاظ صادر کر دے کہ لعنت ہو تم پر ۔۔۔۔تو غریب کا کہنا بجا ہے کہ۔۔
   “عجب رسم ہے چارہ گروں کی محفل میں
      لگا کے زخم نمک سے مساج کرتے ہیں
     غریب شہر ترستا ہے اک نوالے کو
          امیر شہر کے کتے بھی راج کرتے ہیں”
وقت بدل چکا ہے۔حالات کروٹ لے چکے ہیں۔ماضی کو بھول کر آگے بڑھنے کا سوچنا ہو گا۔اپنے اپنے خانۂ حیرت میں اخلاقیات کا درس دینا ہو گا۔ دلیل کی جگہ گالی کی روش کو ختم کرنا ہو گا۔ دلیل کو دلیل کا درجہ دینا ہو گا۔تب وجودِ دید باقی رہنے کے امکان روشن رہیں گے۔ہمیں یہ سوچنا اور سمجھنا ہو گا کہ اخلاقیات سے عاری رویے ہماری بربادی کیلئے کافی ہیں جس کے غیر اخلاقی رویے ہی اس کی بربادی کیلئے کافی ہوں ان کو کسی دشمن کی ضرورت نہیں ہوتی۔وہ اپنے دشمن آپ ہوتے ہیں۔

sajidshmmas03@gmail.com

google.com, pub-9821533189288546, DIRECT, f08c47fec0942fa0
Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close