کالم

“بددیانتی ہمارے لیے کوئی بُرا کام نہیں”

موجودہ حالات میں ملک کی اکثریت کو انصاف تک رسائی نہیں ہے جس معاشرے میں انصاف نہیں ہوگا وہاں ظُلم اس کی جگہ لے گا جب ظُلم معاشرے کی تباہی کا باعث بنتا ہے معاشرے میں جتنی برائیاں اور نا انصافیاں وقوع پذیر ہو رہی ہیں دراصل ظُلم کی ہی پیداوار ہیں اس کے برعکس جس معاشرے میں عدل و انصاف ہو گا وہاں اس طرح کی برائیاں ناانصافیاں سرے سے ہی دم توڑ جائیں گی عدل و انصاف کی موجودگی میں اگر کوئی معاشرتی برائی جنم لے بھی لے تو  عدل و انصاف ایک ایسا ہتھیار ہے جس سے اس برائی کا فوری تدارک کیا جا سکتا ہے مگر جس معاشرے میں بروقت انصاف کا فقدان ہو وہاں پر معاشرتی بُرائیاں اور ناانصافیاں نہ صرف اپنے ڈیرے جما لیتی ہیں بلکہ بچے بھی جنتی ہیں جس سے معاشرے میں انتشار اور بگاڑ پیدا ہوتا ہے ہے اور عدل و انصاف کے فقدان کی وجہ سے امن نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی آئے روز ہم اس طرح کی صورتحال کا مشاہدہ کرتے ہیں قانون ہمارے تھانوں، کچہریوں، پٹوار خانوں اور سیاسی ایوانوں میں مذاق ہے لوگ تھانے اور عدالت میں جانے سے گھبراتے ہیں کیونکہ اس میں سیاسی اور حکمران ٹولے کے مداخلت اتنی زیادہ ہے کہ وہاں پر غریب کی شنوائی نہیں ہو پاتی اس ملک میں اپنے تحفظ اور انصاف کے لئے آپ کے پاس پیسے ہونے چاہئیں اس ملک میں تعلیم غریب اور متوسط طبقے کے ہاتھ سے نکل چکی ہے تعلیمی ادارے کاروباری مرکز بن چکے ہیں پوری دنیا میں تعلیم ،صحت انصاف ،اور تحفظ ہر باشندے کا بنیادی حق سمجھا جاتا ہے کیا ہمارے ملک میں یہ چاروں بنیادی ضرورتیں عوام کے پاس ہیں؟ پاکستان میں مزدور اور غریب کو اس کے حق کا صرف 25 فیصد مل رہا ہے کروڑ والا کروڑ سے کروڑوں کما رہا ہے لیکن ہزاروں اور لاکھوں والے روزبروز غریب ہو رہے ہیں کیا موجودہ حکومت کوئی ایسی حکمت عملی اپنائے گی جس سے ان تمام مسائل کا حل نکل سکے ؟ دیکھا جائے تو ہم عوام بھی اس طرح کے مسائل پیدا کرنے میں کچھ حد تک قصور وار ہیں ان تمام برائیوں، بداخلاقیوں،  بے راہ روی اور بے حسی کے خالق اور ذمہ دار ہم خود ہیں قطار میں کھڑا ہونا اپنی ہتک اور شان کے خلاف سمجھتے ہیں رشوت دے کر جلدی کام کروانا ہمارے لئے کوئی مشکل نہیں اور بڑے فخر سے گردن اونچی کر کے کہتے ہیں کہ ہم نے اپنا کام نکلوا لیا رشوت لینا دینا ہمارے معاشرے کا معمول بن گیا ہے اور بد دیانتی ہمارے لیے کوئی برا کام نہیں اپنے ڈرائیونگ لائسنس میں ہزار کا نوٹ رکھ کر نذرانہ پیش کرتے ہیں سگنل توڑنا ہمارا ہنر اور پھر چلان سےبچنے کے لئے لیے ایک لال نوٹ ٹریفک وارڈن کی جیب میں ڈالنا ہمارا فن بن چکا ہے ہمارا مذہب اسلام صرف راشی کی مذمت نہیں کرتا بلکہ مرتشی کو بھی دوزخ کا حق دار بناتا ہے ہمارے پیارے دین محمدی نے ہمیشہ محنت اور کوشش کی تلقین کی ہے لیکن اس کے برعکس ہمارے ملک میں کام چوری اور بددیانتی کی حالت یہ ہے کہ ہسپتال ہو یا ڈاک خانہ،پرائمری سکول ہو یا بنک یا کچہری ہو ہم مجموعی طور پر پر ایک آرام پسند اور چھٹی پسند قوم ہیں بارش کو بہانہ بنا کر چھٹی  سردی یا گرمی زیادہ  ہو جائے تو کام سے چھٹی اگر میچ جیت جائیں تو چھٹی  اور اگر ہار جائیں تو تعطیل عام سی محسوس ہوتی ہے ایسے حالات میں یہ امیدیں رکھ لینا کہ کوئی حکمران ہمارے حالات بہتر کر سکتا ہے اور ملک میں مجود برائیوں اور نا انصافیوں کا خاتمہ کر سکتا ہے ایسا سوچ لینا کسی خواب سے کم نہیں ہمیں بطور ایک اچھا شہری اپنے اندر موجود تمام برائیوں کی پہچان کر کے ان برائیوں کا خاتمہ کرنا ہوگا تاکہ ہمارے معاشرے میں سے  ناانصافیوں اور برائیوں کا خاتمہ ہو سکے یہ بات یاد رکھنی ہوگی کہ ایک اچھی قوم کو ہی ایک اچھا حکمران ملتا ہے دیانتداری کو اپنی پہچان بنائیں اگر ایسا نہیں کرتے تو ہمیں بددیانت لوگ ہی ملتے رہیں گےاور بددیانتی ہمارے لیے کوئی برا کام نہیں رہے گی

mahmoodnizami143@gmail.com

google.com, pub-9821533189288546, DIRECT, f08c47fec0942fa0
Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close