کالم

“عالمی شہرت رکھنے والا شہر پسماندگی کا شکار کیوں؟”

“عالمی شہرت رکھنے والا شہر پسماندگی کا شکار کیوں؟”

  آج میں اپنی تحریر میں جس  شہر کا ذکر کرنے جا رہا ہو اس شہر کانام پاکپتن شریف ہے میرا تعلق بھی اسی شہر سےہے اب تو میں عرصہ دراز سے لاہور میں مقیم ہوں لیکن جب بھی مصروفیات سے وقت ملتا ہے میں اپنےآبائی شہر جاتا ہوں    میں نے سوچا کہ آج اپنی تحریر کے ذریعے آپ قارئین کو اپنے شہر کا مختصر سا تعارف کرواؤں اور اس کے مسائل بھی سامنے لاؤں شاید ہی کوئی ایسا  شخص ہو جو اس شہر کے نام سے واقف نہ هو  لاہور کے جنوب مغرب میں  تقریبا 184 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع یہ شہر تاریخی اعتبار سے  اپنی مثال آپ ہے اس شہر کی وجہ شہرت یہاں پر مشہور صوفی بزرگ  حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ  کا مزار مبارک ہے بابا حضور کے یہاں تشریف لانے سے قبل اس شہر کا نام اجودھن تھا کہا جاتا ہے کہ اس شہر کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے اور یہ ہندوؤں کا مذہبی شہر تھا اس کے قدیم نام اجودھن کی تاریخ اتنی پرانی ہے کہ ہندوؤں کی  مذہبی کتابوں میں میں اس کا ذکر پچیس ہزار سال پرانا ملتا ہے یونانی مؤرخین کے مطابق 327 قبل مسیح یہ مضبوط بنیادوں پر قائم ایک قصبہ تھا سکندر اعظم جب ایشیا آیا تو دریائے ستلج کے ساتھ رہنے والوں نے دو بنیادی شہر بنا رکھے تھے مؤرخین کو اس بات کا یقین ہے کہ ان میں سے ایک پاکپتن ہی ہے بعض مورخین کا کہنا ہے کہ پاکپتن کا علاقہ ملکہ ہانس وہ جگہ ہے جہاں پر سکندر اعظم کو برچھا یا  تیر وغیرہ لگا تھا ملکہ ہانس میں ہی سینکڑوں سال پرانا پرنامی  مندر بھی ہے  اور ملکہ ہانس میں حضرت وارث شاہ نے قیام کیا اور ہیر لکھی  پاک پتن پر   978 سے  997 تک سبکتگین اور1079 سے 1080 ابراہیم بن مسعود غزنوی کی حکومت رہی  کچھ مؤرخین کا کہنا ہے کہ محمد بن قاسم  اور محمود غزنوی بھی پاکپتن سے گزر چکے ہیں 1235 میں  بابا فرید مسعود گنج شکرنےاس شہر کو  کو اپنا مسکن بنایا تو آپ کی نسبت سے  اس شہرکا نام اجودھن سے پاکپتن ہو گیا تاریخ میں یہ بھی ملتا ہے کہ دنیا کی سیر کرنے والا  مشہور سیاح ابن بطوطہ 1334 میں یہاں آیا وہ اپنی کتاب میں پاکپتن کا ذکر کر چکا ہے  1398 میں بادشاہ امیر تیمور نے بھی یہاں کا دورہ کیا دریائے ستلج سے آٹھ میل دور یہ شہر جو ملتان اور دہلی کے وسط میں واقع تھا بڑی اہمیت کا حامل تھا  15 ویں صدی میں شہنشاہ اکبر کا بابا فریدؒ کے مزار پر آنے کا ذکر بھی ملتا ہے بابا فریدؒ کی آمد سے قبل  یہ ایک غیر معروف قصبہ تھااور یہاں پر اکثریت ہندؤں کی تھی آپ نے یہاں آکر کر لوگوں کو دین کی طرف راغب کیا  اور سال ہا سال اسلام کی اشاعت کے لیے جدوجہد کی ایک روایت کے مطابق آپ نے اپنی زندگی کے 16 سال جبکہ دوسری روایت کے مطابق  آپ نے اپنی زندگی کے 24 سال یہاں پر گزارے اور اسی شہر میں آپ کا وصال ہوا آپ کا نام فرید الدین مسعود ہے  اور گنج شکر آپ کا لقب ہے  یکم محرم سے دس محرم تک  آپ کا عرس منایا جاتا ہے  آج بھی لاکھوں کی تعداد میں ہرسال زائرین پاکپتن آتے ہیں اور بابا حضور کے مزار پر حاضری دیتے ہیں اور اطمینانِ قلب کی دولت مالا مال ہوتے ہیں یہاں پر  پاکستان کی بڑی بڑی شخصیات تشریف لا چکی ہیں جن میں سابق ویرعظم بے نظیر بھٹو شہید،سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف اورسابق وزیراعلیٰ میاں شہبازشریف اور بہت سی شخصیات جن میں ہمارے ملک کے موجودہ وزیراعظم جناب عمران خان اور پنجاب کے موجودہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار اور دیگر قومی اور صوبائی وزراء تشریف لا چکے ہیں مگر بڑے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے بین الاقوامی شہرت رکھنے والا  یہ شہر جہاں پر ہر سال لاکھوں کی تعداد میں زائرین آتے ہیں اور بہت بڑی شخصیات  پاک پتن میں بابا فرید کے مزار پر حاضری کے لیے آتی رہتی ہیں اس کے باوجود یہ شہر پسماندگی کا شکار ہے جس کی بہت ساری وجوہات ہو سکتی ہے سیاسی اعتبار سے اس شہر کو مسلم لیگ( ن) کاگڑھ  سمجھا جاتا ہے بڑے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اس شہر سے مسلسل (ن لیگ) کامیاب ہوتی آئی ہے لیکن اس شہر کی ترقی کےلیے کوئی بہتر کام نہ کر سکی جس کی وجہ یہاں کے کرپٹ سیاستدان ہیں   جنہوں نے اس شہر کی ترقی کیلئے لیے کبھی کوئی موثر اقدامات نہیں اٹھائے آج کل پاکپتن میں  بابا فرید یونیورسٹی بناؤ  موومنٹ کے نام سے کمپین چل رہی ہے  اور اس وقت کے وزیراعلیٰ  جناب عثمان بزدار پاک پتن میں بابا فرید یونیورسٹی کا وعدہ بھی کر چکے ہیں لیکن ابھی تک اس وعدے کی تکمیل ہوتی نظر نہیں آرہی اس شہر کے بہت سارے مسائل ہیں  جس میں بڑا مسئلہ یہ ہے کہ  اس شہر کی غلہ منڈی شہر کے بیچ وبیچ  واقع ہے  جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی میں بہت سے مسائل درپیش ہیں  15 یا 20 سال کا عرصہ بیت چکا ہے غلہ منڈی کو شہر سے باہر لے جانے پر غور ہو رہا ہے لیکن عمل نہیں ہو پا رہا  پاکپتن میں مناسب روزگار کے مواقع نہیں ہیں یہاں پر کوئی انڈسٹریز نہیں ہیں اس لیے نوجوانوں کے پاس نوکریاں نہیں ہیں اس وجہ سے یہاں کا کرائم ریٹ دن بدن بڑھ رہا ہے یہاں آئے دن چوری ڈکیتی کی وارداتیں ہوتی رہتی ہیں اور مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے کی پولیس ہمیشہ سے سستی کا مظاہرہ کرتی ہے جس وجہ سے جرائم پیشہ افراد کو اور چھوٹ مل جاتی ہے  بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے ہے کتنا مشہور شہر جس میں اتنی بزرگ شخصیت موجود ہو اور پوری دنیا سے لوگ یہاں آتے بھی ہو پھر بھی ایسے شہر کی ترقی کےلیے کوئی  اقدامات سنجیدگی سے نہ کئے جائیں تو پھر اللہ ہی حافظ ہے 

google.com, pub-9821533189288546, DIRECT, f08c47fec0942fa0
Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close