کالم

زینبیون محافظین پاکستان !

کوئی ریاست اس وقت تک نہیں چل سکتی جب تک وہ دفاعی صلاحیت نہ رکھتی ہو۔ دفاعی صلاحیت کا پہلا محور و مرکز جوان ہیں۔ کسی بھی ملک یا ریاست کی علمی، ثقافی، سیاسی اور دفاعی ترقی کی بات ہو تو اس کا نقطہ آغاز جوان ہوتے ہیں۔ گویا ریاست جیسی عمارت کی پہلی اینٹ جوان ہیں اور یہ عمارت اسی اینٹ پر قائم ہے۔پاکستان کے دشمن چاہے وہ بھارت ہو، تکفیریت ہو یا عالمی صیہونی طاقتیں ہوں، انکو ہر کوشش میں منہ کی کھانی پڑی ہے۔ یہ طاقتیں پاکستان کے امن و امان سے خوفزدہ ہیں اسلئے آج یہ لوگ داعش کے اثر و نفوذ کو پاکستان میں بڑھانا چاہتے ہیں بلکہ ایک ایسی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں جسکے آقا یہودی ہوں، ایک ایسا پاکستان جس کو اسرائیل سے تعلقات میں عار نہ ہو، جس کا مسلم دنیا میں یہودی کٹھ پتلی سے زیادہ کردار نہ ہو۔ تکفیریت اور عالمی صیہونی طاقتیں جب تک اپنا راج قائم نہیں کرلیتی اس وقت تک خون بہاتی رہیں گی۔ جس کیلئے داعش جیسی خونخوار تنظیم ان طاقتوں کا خطرناک ہتھیار رہا ہے جس نے مسلسل مسلمانوں اور انسانیت کا خون بہایا ہے۔ اسرائیل، امریکہ، سعودیہ اور نام نہاد عرب حکمرانوں نے داعش کی دل کھول کر مدد کی اور اس خونخوار لشکر کو بطور عالمی ہتھیار چن لیا تاکہ عالم انسانیت کو ذبح کرکے ایک شیطانی یہودی ریاست قائم ہوسکے۔ 
اگر پاکستان کی حفاظت مقصود ہے تو داعش جیسے وحشی لشکروں کا سدباب ضروری ہے۔ یاد رکھیں اگر ان وحشیوں کے خلاف قیام نہیں کریں گے تو یہ صیہونی تمہیں غلامی اختیار کرنے پر مجبور کردیں گے۔ ان درندوں کا واحد حل صرف اور صرف مقاومت و مزاحمت ہے، ان کا حل وہ جوان ہیں جو اسلامی مقاومت کے پرچم کو تھامے ہوئے ہیں، جنہوں نے عراق و شام میں داعش کو شکست سے دوچار کیا۔ داعش جیسے درندوں کا حل زینبیون جیسے جوان ہیں جنہوں نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر داعش کو نابود کیا۔ زینبیون کے جوان عالم اسلام اور عرب دنیا میں پاکستان کا ناز ہیں، پاکستان کا فخر ہیں، یہ جناح و اقبال کے نظریاتی مملکت کے غیرت مند فرزند ہیں، یہ پاکستان کیلئے حقیقی دفاعی لائن ہیں۔ ان محب وطن جوانوں پر دہشتگردی کا الزام پاکستان سے غداری کے مترادف ہے۔ اگر کسی محب وطن کا غیرملک جاکر جنگ لڑنا دہشتگردی ہے تو سعودیہ میں یمن کے خلاف لڑنے والے پاکستانی بھی دہشتگرد ہیں۔ یمن و افغانستان میں لڑنے والے لاڈلے مجاہدین آئے روز امن و سلامتی کو تہس نہس کرتے ہیں اور پاکستان میں بھی دہشتگردی کے کئی واقعات میں ملوث نظر آتے ہیں جبکہ زینبیون سیدہ زینب سلام الله عليها کے حرم کا دفاع کرتے ہیں، عالم اسلام پر جھپٹتے داعش جیسے خونخوار درندوں کو شکست دیتے ہیں، اسلام و انسانیت کا تحفظ کرتے ہیں۔ ان جوانوں نے کبھی پاکستان پر خودکش بم دھماکے نہیں کیے، ان جوانوں نے کبھی وطن عزیز کے خلاف بات تک نہیں کی بلکہ ہمیشہ سے محب وطن ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ زینبیون کے یہ جوان وطن عزیز پاکستان کی محبت میں لبریز ہیں، ان جوانوں کی پہلی ترجیح پاکستان اور اسکے سرحدوں کی حفاظت ہے۔ 
زینبیون داعش کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔ 8 سال قبل جب دنیائے اسلام میں گونج اٹھی کہ تکفیری دہشتگرد اپنے ناپاک عزائم کے ساتھ شام و عراق میں حملہ آور ہو گئے ہیں اور صحابہ کرام کے قبروں کو مسمار کرچکے ہیں اور اب اعلان کرچکے ہیں روضہ مقدس سیدہ زینب سلام الله عليها کو گرا کر شام و عراق پر قابض ہوجائیں گے تو اس وقت پاکستان کے بہادر و وفادار بیٹوں نے حریت و حمیت کا ثبوت دیا اور داعش کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ شام و عراق میں داعش جیسے خونخوار لشکروں کو نابود کیا۔ آج بھی داعش جیسے وحشی درندے زینبیون کے نام سے کانپ اٹھتے ہیں۔ پاکستان پر حملہ آور ہوتی داعش کو ناکام بنانے میں زینبیون کے یہی جوان فرنٹ لائن پر نظر آئیں گے، پاکستان کی حفاظت کیلئے یہ جوان جان نچھاور کرنے کیلئے تیار ہیں۔ اگر داعش نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی ٹھان لی ہے تو مادر وطن کے تحفظ کیلئے ہر گھر سے زینبیون نکلیں گے۔

تحریر: شاہد عباس ہادی

abbasshahid816@gmail.com

google.com, pub-9821533189288546, DIRECT, f08c47fec0942fa0
Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close