کالم

خاموش لب اور بولتے احساس

لکھتا ہوں تو قلم رک جاتا ہے سوچتا ہوں تو دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ اپنے آپ سے باتیں کرنا چاہتا ہوں لیکن ضمیر ملامت کر کے خاموش کروا دیتا ہے۔ میری آج اس موضوع پر لکھنے کی ہمت نہیں تھی۔ میں کیا لکھوں ؟ لکھنے کو کچھ نہیں ہے۔میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔میں الفاظ کا ذخیرہ کہاں سے تلاش کروں۔میں مذمت والے الفاظ کہاں سے لے آؤں۔ وہ الفاظ جو کسی کے  مردہ جسم کو جلا کر راکھ کردیں۔یا وہ الفاظ جو کسی کے مرے ہوئے ضمیر کو زندہ  کر دیں۔ وہ الفاظ جو ارباب اختیار کے الفاظ کے بنے محلات کو گرا کر خاک کر دیں یا وہ الفاظ جو کسی کے قلوب و اذہان کو روشنی دے دیں۔ملک پاکستان میں اس وقت عجیب عالم ہے اور عجیب الم گزر رہے ہیں۔کتنا کرب ناک لمحہ تھا جب ایک ماں کو اپنی منزل تک جاتے ہوئے درندگی کا نشانہ بنا دیا گیا وہ بھی اس کے بچوں کے سامنے۔ کیا یہ اسلامی فلاحی ریاست ہے؟ اگر اسلامی فلاحی ریاست میں اس طرح کے واقعات عروج پر پہنچ جائیں تو ہندو ریاست میں تو اللہ ہی حافظ ہو گا۔ لاہور ہائی وے پر ایک ماں اپنے بچوں کے ساتھ کہیں جارہی تھی۔اس نے یہی سنا ہو گا کہ یہ نیو اسلامی ریاست مدینہ ہے۔یہاں پر کوئی خطرہ نہیں ہے۔لیکن چند ہی لمحوں میں اس کی تمام  خوش فہمیاں غلط فہمیوں میں تبدیل ہو گئیں۔ اور اس کو یاد دلا دیا گیا کہ یہ ایک۔۔۔ اب میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ یہ وہ ریاست بن گئی ہے۔وہ بیچاری راستے میں جارہی تھی کہ اچانک اس کی کار میں پٹرول ختم ہو گیا۔اور وہ پریشانی کے عالم میں ادھر ادھر دیکھنے لگی۔اس کے دل میں خیال ہو گا کہ شاید کوئی کھڑی گاڑی کو دیکھ کر پوچھنے آ جائے کہ بہن آپ کیوں کھڑی ہیں؟ کیا کوئی مسلہ ہے؟ ہم آپ کی کوئی مدد کر سکتے ہیں؟ یا ہم آپ کو آپ کے گھر تک پہنچانے میں مدد کر سکتے ہیں؟ لیکن وہ خواب, خیال, تمنائیں جسم کے ساتھ ہی خاک ہو گئیں۔جب ایک جانور اس کی عزت کو سر بازار تار تار کرنے لگا۔ اس درندے نے یہ نہیں سوچا اور سمجھا کہ میں کر کیا رہا ہوں۔وہ شخص مسلمان نہیں ہو سکتا کیونکہ مسلمان ایسا کام نہیں کر سکتا۔ وہ عورت چیختی رہی اور چلاتی رہی کہ خدا کیلئے ایسا نہ کرو لیکن ان ظالم درندے  نے اس کی ایک نہ سنی اور اپنی اس سفاکانہ حرکت پر ڈٹا رہا۔اور اس کی عزت پر داغ لگا دیا۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ یہ واقعہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ہوا اور وہ بھی ہائی وے پر ہوا۔ لیکن کوئی مائی کا لعل ایسا نہیں تھا کہ جو اس درندگی کو روک سکتا۔معزز قارئین۔ہم اپنے پروردگار کو کیا منہ دکھائیں گے کہ ہم اپنی بہنوں کی عزت کی حفاظت نہ کر سکے۔اپنی بیٹیوں کی عزت کی حفاظت نہ کر سکے۔ کافی عرصے سے چھوٹی بچیوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔لیکن ہم خواب نیند میں ہیں۔ ہمیں پتہ ہی نہیں کہ کہاں, کب, اور کیا ہو رہا ہے۔ ہر روز کوئی نہ کوئی خبر درندگی کے واقعات کی خبروں کی زینت بنی ہوتی ہے لیکن یہاں سب خاموش تماشائی بن کر بیٹھے ہیں اور ایک دوسرے کے منہ کی طرف دیکھے جارہے ہیں کیونکہ انہیں حقیقی معنی میں کچھ نظر نہیں آتا انہیں بہنوں اور بیٹیوں کی چیخیں سنائی نہیں دیتی۔۔ہم خبریں سننے کے بہت شوقین ہیں۔ اور خبریں آگے پہنچانے میں بہت ذہین ہیں لیکن کچھ عملی طور پر کرنے میں بہت کمین ہیں۔ روزانہ کی تعداد میں کتنی بچیوں کے کیسز سامنے آرہے ہیں۔ لیکن ہم بہرے گونگے اور اندھے بنے بیٹھے ہیں۔ ہم کون ہیں اور یہ کائنات کیا ہے؟ کسی کو کچھ علم نہیں۔ہر روز کوئی نہ کوئی واقعہ اس طرح کا رونما ہو جاتا ہے جس میں کسی کی بیٹی کی عزت لوٹ لی جاتی ہے اور کسی کی بہن کی عزت کو تار تار کر دیا جاتا ہے۔میں تو یہ سوچ کر حیران ہوں کہ آخر یہ ایک دم اتنے کیسز کیوں ہو رہے ہیں؟ اس سفاکیت کے پیچھے کون ہو سکتا ہے؟ اس پر اداروں کو سختی سے سوچنا ہو گا۔اور مجرموں کو عبرت ناک سزائیں دینی ہوں گی۔ اسلام نے عورت کو سب سے زیادہ عزت دی ہے۔جتنی عزت اسلام نے عورت کو دی ہے کسی اور مذہب نے نہیں دی۔ اسلام نے عورت کو بہن, بیٹی, بیوی, اور ماں کے درجے عطا کیے ہیں۔لیکن پھر بھی ایک اسلامی ریاست میں اس طرح کے واقعات سامنے آئیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے کہ ہمیں حکم کیا ملا تھا اور ہم کر کیا رہے ہیں؟ ان درندگی کا نشانہ بنانے والوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو قیامت کے دن منہ نہیں دکھانا؟ یہ رب کو کیا منہ دکھائیں گے؟ آئے دن کسی نہ کسی معصوم بچی کو زیادتی کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے اور ان کے ماں باپ کے گھر عزت کا جنازہ نکال دیا جاتا ہے۔ بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کا بڑھنا ہمارے منہ پر تمانچہ ہے اور وہ زور دار تمانچہ اس لئے ہے کہ ہم مسلماں ہو کر بھی خواتین اور بچوں کی عزت کی حفاظت نہیں کر سکے۔ جارج فلائیڈ کا واقعہ سبھی کو یاد ہو گا۔اور یہ بھی علم ہو گا کہ اس واقعے کے بعد کون سا انقلاب آیا تھا۔ ایک سیاہ فام کو درندگی کے بعد بے رحم طریقے سے مار دیا گیا۔اور اس کے رسپونس نے پورا امریکہ ہلا کر رکھ دیا۔اور ہم۔۔۔منتظر رہتے ہیں کہ آج کوئی خبر نہیں آئی۔۔۔لگتا ہے سب ٹھیک ہو گیا ہے۔۔۔اگر ہم ٹھیک ہی نہیں کریں گے تو ٹھیک کیسے ہو گا؟ مجرموں کو نشان عبرت نہیں بنائیں گے تو ٹھیک کیسے ہو گا؟زیادتی کا نشانہ بنانے والوں کیلئے سخت سزاؤں کے ایکٹ ہی منظور نہیں کریں گے تو ٹھیک کیسے ہوگا؟ یوں لگتا ہے کہ ہم اندھیروں کے مکیں, پستیاں ہمارا مقدر, ذلتیں ہمارا اثاثہ, اور مصیبتیں ہمارا سرمایہ ہیں۔ کیا ہمارے اندر انسانیت بلکل ختم ہو چکی ہے؟ یا انسانیت تھی ہی نہیں۔

تحریر 
      ساجد علی شمس

sajidshmmas03@gmail.com

google.com, pub-9821533189288546, DIRECT, f08c47fec0942fa0
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close