کالم

جنگ تو خود ہی ایک مسلۂ ہے۔۔۔۔

ظلم و ستم کی ایک سیاہ رات جاری و ساری ہے۔اور ابھی تک یقین مانیں کوئی امکان نہیں کہ کب امن کی شمع جلے گی اور ظلم و ستم اور وحشت و بربریت کا دور ختم ہو گا۔حرماں نے تقریباً پنجے گاڑھ ہی دیے ہیں۔کیونکہ جذباتی نعرے لگانے اور عملی کام کرنے میں بڑا فرق ہے۔عرصہ دراز سے ہم صرف تقاریر کرنے کا فن ہی تو سیکھ رہے ہیں۔اور نعرے لگا لگا کر عملی کام کرنے سے قاصر ہیں۔بے قصور کشمیری مسلمانوں کی گریہ زاری زور و شور سے جاری ہے۔ہر طرف دیجور ہی دیجور ہے۔اور ہر کسی کے لب سے صرف یہی صدا گونج رہی ہے۔۔
"جانے کب ہوں گے کم۔اس دنیا کے غم۔جینے والوں پہ سدا۔بے جرم و خطا۔ہوتے رہے ہیں ستم۔جانے کب ہوں گے کم۔اس دنیا کے غم”
مغموم فضاؤں ,سوگوار ماحول,اور جوان بیٹوں کے جنازوں کو لکھنا پڑے تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔قلم اپنی بے بسی پر لرزہ براندام دکھائی دیتا ہے کہ وہ کیسی وادی ہے جہاں پر کبھی معصوم بچوں کے جنازے اٹھتے ہیں تو کبھی جوان بیٹوں کے تابوت کو ضعیف باپ کندھا دینے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں۔وہ کیسی سرزمین ہے جہاں گھروں کے باہر ماؤں کی لاشیں تڑپتی ہوئی ملتی ہیں۔وہ کیسی دھرتی ہے جس کے شہروں پر آگ برستی ہے۔جہاں فلک کا چہرہ لہو سے شرابور دکھائی دیتا ہے اور زمین قیامت کا منظر پیش کر رہی ہوتی ہے۔اب باپ, جوان بیٹوں کو لحد میں اتارتے اتارتے تھک گئے ہیں۔اب مائیں اپنی آغوش میں بیٹے کی لاش کو لوری نہیں سُنا سکتیں۔ہر روز شہادتیں,آنسو گیس شیلنگ اور پیلٹس کا استعمال,فائرنگ اور ڈنڈوں کے وار کرکے کشمیری مسلمانوں کو شہید کر کے امن کا نام دینے والا انتہاء پسند ملک بھارت اپنے کام میں پوری طرح مگن ہے۔بھارتی فوج کی اس سفاکیت پر جب پر امن مظاہرین احتجاج کرتے ہیں تو ان  کو جانوروں سے بھی بد تر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ہمالیہ کی گود میں ماضی کی جنت نظیر کہلانے والی یہ بد نصیب سر زمین کئی عشروں سے آگ و آہن,تباہی و بربادی,وحشت و بربریت,ظلم و تشدد,خون ناحق,حقوق انسانی کی بدترین خلاف ورزیوں,لٹتی عصمتوں,اٹھتے جنازوں,اجڑی بستیوں,خزاں رسیدہ سبزہ زاروں,حسرت ناک کھنڈرات میں تبدیل ہوتی ہوئی شاندار عمارتوں,بے بس اور مجبور عوام کا مسکن بن چکی ہے۔اس جنت کی نظیر وادی سے اور بلند چوٹیوں سے دل موہ لینے والے چشمے اب لہو ابل رہے ہیں۔جہاں ایک شخص کو انسانی ڈھال بنا کر جیپ کے پیچھے باندھا جاتا ہے اور اس انسانیت سوز جرم کا ارتکاب کرنے والے بھارتی فوجی افسر کو میڈلز سے نوازا جاتا ہے۔لاکھوں کشمیری مسلمان حق خوداریت کے حصول کیلئے اپنی جانوں کی قربانی دے چکے ہیں۔لیکن بھارت کبھی بھی مسلۂ کشمیر کے حل کیلئے مخلص نہیں رہا۔سات لاکھ سے زائد بھارتی فوج وحشیانہ کاروائیوں کی مدد سے کشمیریوں کی آواز دبانے کی کوشش میں مصروف ہے۔جبکہ بھارتی میڈیا مسلسل منفی پراپیگنڈہ پر عمل کر رہا ہے۔جہاں تک عالمی طاقتوں کا تعلق ہے ان کا اپنا طویل المدت مفاد اسی میں ہے کہ پاکستان اور بھارت میں کبھی بھی امن و امان قائم نہ ہو۔کیونکہ یہ تاریخی خطہ لامحدود وسائل و معدنیات سے مالامال ہے۔اور کہیں یہ آپس میں کوئی سمجھوتہ کرکے عالمی سیاست میں اپنا کوئی کردار ادا کرنے کے قابل نہ ہو جائیں۔دنیا میں سپر پاور کہلانے والا امریکہ جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی یا کسی دوسرے بہانے عراق,شام,افغانستان, اور دوسرے ملکوں پر نیٹو اتحادیوں کو ساتھ لے کر چڑھ دوڑتا ہے۔مگر اسے مقبوضہ کشمیر میں بے گناہ انسانوں کا بہتا ہوا لہو نظر نہیں آتا۔ بھارت آج سیکولر ریاست کی بجائے مکمل طور پر انتہاء پسند ہندو ریاست بن چکا ہے۔مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھانا ہر مسلمان کا حق ہے۔وہ چاہے کشمیر کے مسلمان ہوں یا فلسطین کے۔وہ چاہے افغانستان کے مسلمان ہوں یا مصر کے۔بطور مسلمان وہ ہمارے بھائی ہیں۔کیونکہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان ,مسلمان کا بھائی ہے۔اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ تمام مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں۔اسی لیے صرف پاکستانیوں پر ہی نہیں بلکہ جس خطے میں بھی مسلمان آباد ہیں ان کا فرض ہے کہ وہ کشمیری مسلمانوں پر ہونے والے انسانیت سوز مظالم کے خلاف آواز اٹھائیں۔تاکہ مکار بھارت کا چہرہ سب کے سامنے عیاں ہو جائے۔آج نہتے کشمیری مسلمانوں پر بھارت کے بدترین مظالم کا سلسلہ رکوانے,پاکستان اور بھارت دونوں کے تعلقات معمول پر لانے,برصغیر میں امن و استحکام کے قیام کیلئے مسلۂ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پر امن مذاکرات کے ذریعے حل کرنا بہت ضروری ہے۔کیونکہ مسلۂ کشمیر بہت درینہ مسلۂ ہے۔اس مسلئے کا حل صرف اور صرف مذاکرات ہیں۔جنگ اس مسلئے کا حل نہیں۔کیونکہ "جنگ تو خود ہی ایک مسلہ ہے۔جنگ مسلوں کا حل کیا دے گی۔”اسے لئے تمام امن پسند ممالک کو اس مسلئے کے حل کیلئے کردار ادا کرنا ہو گا۔کیونکہ ان کو بھی سوچنا اور سمجھنا ہو گا کہ امن پسندی ہی میں بھلا ہے۔۔۔

تحریر 
       ساجد علی شمس

sajidshmmas03@gmail.com

google.com, pub-9821533189288546, DIRECT, f08c47fec0942fa0
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close