کالم

"وعدہ خلافیوں کا احتساب کون کرے گا "

 اکثر ہی سیاستدان اقتدار میں آنے کے لیے عوام کے ساتھ بہت سارے وعدے کر بیٹھتے ہیں ان  کو نبھانا تو درکنار اقتدار مل    جانے کے بعد اپنے کیے گئے قول و قرار کو یاد رکھنا بھی گوارا نہیں کرتے عوام تو بیوقوف  بن ہی جاتی ہے  عوام کا کیا ہے؟اسے  پتہ بھی ہو کہ یہ وعدے کبھى پورے ہونے والے نہیں ہیں پھر بھی ہماری عوام رسک لینے کی عادی ہے یا خواب دیکھنا بہت پسند کرتی ہے  اور جو سہانے خواب دکھائے اس کے پیچھے پیچھے چل پڑتی ہے یا یوں کہہ لیجئے   عوام مجبور ہے اس کے اوپر جس کو بھی مسلط کر دیا جائے گا وہ چپ چاپ اس کی رعایا کا کردار بخوبی  نبھائے گی لیکن ایسا کب تک چلتا ہے  ایسے  تو حالات بد سے بدتر ہوتے جاتے ہیں اور عوام کبھی بھی اپنے مسائل کا حل نہیں نکلوا  سکتى جھوٹے وعدوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے سہانے خواب دکھانے والوں کا بھى احتساب ہونا چاہئے  اشیا ضروریہ  کو غریبوں سے دور کرنے والوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے احتساب احتساب کا راگ الاپ کر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے والوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے  موجودہ حکومت کو   تقریبا تین سال کا عرصہ ہو چکا ہے اب تو یہ پوچھنے کا حق بھی بنتا ہے که خان صاحب آپ نے ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کیا تھا پھر یو ٹرن کیوں لیا؟ کیا صرف آپ کے وعدوں کا مقصد  غریب عوام کے جذبات سے کھیلنا تھا؟  آپ نے وعدہ کیا تھا کہ میں چور اور کرپٹ حکمرانوں کو پکڑ کر ان سے عوام کا لوٹا ہوا پیسہ نکلواں گا پھر ایسا کیا ہوا کہ  چور پکڑے بھی گئے ان پر مقدمات بھی چلے جیلوں میں بھی رہے اور جہازوں میں بیٹھ کر باہر کے  ملکوں کو روانہ بھى ہوگئے مگر عوام کا لوٹا ہوا پیسہ واپس نہ آ سکا ؟خان صاحب آپ کہتے تھے مہنگائی کو ختم کروں گا مگر ایسا کیا ہوا کے عوام دن بدن مہنگائی کے بوجھ تلے دتی جا رہی ہے؟ خان صاحب آپ اس مہنگائی کا ذمہ دار مافیا کو ٹھہراتے ہیں تو آپ ہی بتائیں کہ وہ مافیا کون ہے؟ اور اس کو پکڑنا کس کا کام ہے آٹے اور چینی میں کرپشن کرنے والوں کو کیا سزا ملی؟ یہ بات تو میری سمجھ سے بالاتر ہےکه ملک کا حکمران  بار بار کرپٹ مافیا کا رونا روتا ہے مگر انہیں پکڑ نہیں سکتا  یوں لگتا ہے کہ مافیا حکمران سے طاقتور بن بىٹھى  ہے اور حکمران ایک عام آدمى کى طرح بے بسى  کا مظاہرہ کر رہا  اور  لوگ بے روزگاری کی وجہ سے خودکشیاں کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں  غریب کے پاس دو وقت کی روٹی نہیں. کسى جوان بیٹی کے بیاہ کے لیے وسائل نہیں  بیٹے کو پڑھانے کے لئے فیس نہیں ایک مزدور کرائے کے مکان میں رہنے والےآدمی کی مزدوری اتنی ہےکه  اگر  گھر کا چولہا جلائے  تو مکان کا کرایہ نہیں دے سکتا  غریب بیمار ہو جائے تو دوا نہیں خرید  سکتا  ایسے حالات میں حکومتی ترجمانوں کو  جب یہ کہتا ہوا سنتا ہوں کہ ملک  ترقی کی راہ پر  گامزن ہے تو میرے اوپر سکتہ کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے  تین سال کا عرصہ بیت گیا ہے  کوئی  ڈهنگ کا منصوبہ سامنے نہیں آیا  کامیاب نوجوان سکیم  سے بھی  صرف کامیاب نوجوان ہى مستفید ہو سکیں گے جو خیر سے پہلے ہى مالى لحاظ سے مضبوط ہو نگے غریب ہمیشہ کی طرح هړ سکیم سے محروم ہی رہے گا.چاہے پھر پچاس لاکھ گھروں کی سکیم ہى کیوں نہ ہو غریبوں  کے حصے میں  گھر نہیں آنے والے آخر کیا وجہ ہے عوام کا امتحان کیوں لیا جا رہا ہے اپوزیشن پارٹیاں  خان صاحب کو سلیکٹڈ کہتى ہیں مگر وہ سلیکٹڈ نہیں اور نہ ہی کرپٹ ہیں لیکن ایک خاص طریقے سے ضرور الیکٹ هو کے  اقتدار میں آئے ہیں اس لئے ان کو سیلکٹڈ کہنا مناسب نہیں ہے اب وقت آگیاہے کہ عوام عمران خان کے کئے گئے وعدے انہیں یاد دلائیں وعدہ خلافىوں کا احتساب کریں حاکم وقت کو یہ احساس دلائیا جائےکہ  آپ نے غریب عوام  کے دلوں میں بہت سارى امیدیں اور ذہنوں میں یہ خواب سجائے تھے کہ میں ملک کا نظام بہتر کروں گا حالات بہتر کروں گا مگر کیا حاصل ہوا حالات جوں توں بلکہ پہلے سے بد تر ہیں  غریب مزدور کسى سیاسى جماعت کا حصہ نہیں ہے نہ اپوزیشن سے اس کا کوئی تعلق ہے نہ حکومت کے گن گاتا ہے غریب تو بس دو وقت کی روٹى کمانا چاہتا ہے جو اس کی روزى روٹى کا بندوبست کرے گا وہ اس کے  ہى گن گا ئے گا خان صاحب کو بھی چاہئیے کہ ملک کا سربراہ ہونے کے ناطے اپنے کئے وعدوں کا پاس رکھے اور اب اپوزیشن کے خلاف بولنے کی بجائے کوئی عملی کام ہو اور غریبوں کا بھلا ہو تاکہ غریب دعائیں دیں اور آپ کا بھلا ہو

محمود مسعود نظامى

google.com, pub-9821533189288546, DIRECT, f08c47fec0942fa0
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close