کالم

“کچھ تذکرہ اردو زبان کا”

  کہا جاتا ہے کہ زبان  کسی قوم کى سب سے بڑی ترجمان ہوتی ہے زبان سے ہی کسی قوم کی تہذیب و تمدن کا  اندازہ ہو سکتا ہے یوں تو دنیا میں بہت سی زبانیں ہیں لیکن اردو  جیسی چاشنی کہاں کہ  اردو زبان کے الفاظ اس کے بولنے کا لب و لہجہ اور مٹھاس  شاید ہی کسی زبان میں ہو  یہاں پر اردو کے بارے میں تذکرہ کرنا  اس لیے مقصود  ہے کہ  اردو ہماری قومی زبان ہے بات اردو زبان کی ہو رہی ہو اور بابائے اردو مولوی عبدالحق کا ذکر نہ ہو  تو  میرے خیال میں  یہ بڑی نا انصافی ہوگی اردو زبان اور ادب کے سلسلے مولوى عبدالحق کى گراں قدر خدمات ہیں اس لئے تو اردو زبان اور ادب پر  مولوی عبدالحق کی ذات نصف صدی   سے زیادہ  چھائی رہی جس کے نتیجے میں اردو کا ذکر مولوی عبدالحق کے تذکرے سے اور مولوی عبدالحق کا تذکرہ اردو کے ذکر سے کچھ اس طرح پیوست ہو گیا کس شاہد و مشہود کی تمیز نہ رہی مولوی عبدالحق نے اپنا لڑکپن جوانی اور بڑھاپا سارے کا سارا اردو پر قربان کردیا اور ان کی بس ایک ہی خواہش رہی کہ اردو زبان کو اس کا جائز حق ملے اور وہ اتنی  پھلے پھولے کے بین الاقوامی زبانوں کے شانہ بشانہ چل سکے انہوں نے اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے عملی میدان میں بھی قدم رکھا  تھکا دینے والی طویل مسافتوں کے سفر کئے خطبات دیئے  اور لوگوں کو اردو کی عظمت اور اہمیت کا قائل کیا  اس ضمن میں انہیں غیروں سے بھی مقابلہ کرنا پڑا اور اپنوں کی ستم ظریفیوں کا بھی شکار ہونا پڑا مضامین لکھے خاکے قلمبند کیے تبصرے تحریر کیے رسالے نکالے دور افتادہ مقامات پر اردو کے مدرسے قائم کئے انجمن ترقی اردو کی شاخیں کھولیں  قائدےلکھے  اور ڈھونڈ  ڈھونڈ کر قدیم مخطوطات  منظرعام پر لائے تاکہ اردو کی قدامت کو ثابت کیا جا سکے ان کی  یہی  ولولہ انگیز شخصیت اردو کے چاہنے والوں کے لیے  باعث  کشش ہے بابائے اردو 20 اپریل 1870 کو پیدا ہوئے وہ عظیم اردو  مفکر،  محقق، ماہر لسانیات، معلم اور انجمن ترقی اردو اور اردو کالج کراچی کے بانی تھے 1935 میں جامعہ عثمانیہ کے ایک طالب علم  محمد یوسف نے  انہیں بابائے اردو کا خطاب دیا جس کے بعد یہ خطاب اتنا مقبول ہوا کہ ان کے نام کا جزو بن گیا وہ کتابیں جو مولوی صاحب نے لکھی یا ان کو تحقیق حواشی کے ساتھ شائع کیا  ان میں سے چند کا ذکر کر دیتا ہوں. نکات الشعراء ،دیوان تابان ،گلشن عشق ،قوئداردو،معراج العاشقین ،باغ وبہار ، قدیم اردو، چند ہم عصر، لغت کبیر جلد اول، انتخاب کلام میر، دریائے لطافت اور بہت سی شاہکار کتابیں ہے ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے مارچ1959 کو انہیں  صدارتی اعزاز برائے   حسن کارکردگی سے نوازا اردو زبان اور ادب کے محسن  بابائے اردو16اگست1961کو اس جہاں فانى سے کوچ کر گئے  میں نے اپنی اس تحریر میں اردو ادب کا اور بابائے اردو کا تذکرہ اس لئے کیا ہے کہ ہم اپنی قومی زبان کی اہمیت کو فراموش کرکے  انگریزی زبان اور انگریزی کلچر  کے پیچھے بھاگ رہے ہیں پاکستان میں خالص اردو بولنے والوں کی  تعداد بہت ہی کم ہے  بڑی وجہ علاقائی زبانیں ہیں اردو زبان پڑھے لکھے لوگوں کی زبان تھی مگر افسوس آجکل پڑھے لکھے انگریزی میں بات کرنا باعثِ فخر سمجھتے ہیں  انگریزی وقت کی ضرورت ضرور ہے اسے صرف ضرورت کی حد تک رہنے دیا جائے انگریزوں کی نکالی میں اپنی تہذیب کو فراموش نہ کریں تمام پڑھے لکھے لوگوں سے گزارش  ہےکہ اردو کو پڑھیں لکھیں اور بولیں یہ ہماری قومی زبان ہے  ہماری پہچان ہے اور کامیاب قومیں اپنی پہچان نہیں چھپا تیں

محمود مسعود نظامى

mahmoodnizami143@gmail.com

google.com, pub-9821533189288546, DIRECT, f08c47fec0942fa0
Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close