کالم

"نام نہاد مفتی دین کی جگ ہنسائی کرا رہا ہے”

"تیغ قلم” "نام نہاد مفتی دین کی جگ ہنسائی کرا رہا ہے”علم والا اگر کوئی ایسا عمل  کرے جو اس کو معلوم ہو کہ یہ گناہ ہے لیکن وہ بار بار وہى عمل دوہرائے اور گناہ کا مرتکب ٹھہرے تو میرے خیال میں اس سے بڑا جاہل  کوئی نہیں کیونکہ ایک جاہل تو کسی عمل کے گناہ یا ثواب کے بارے میں اتنا علم نہیں رکھتا ہاں البتہ اسے اتنی تمیز ضرور ہوتی ہے کہ جو عمل اسکى بدنامی کا باعث بنے ایسے عمل کو وہ کبھى دوہرائے گا نہیں  ہر انسان کی اپنی ایک عزت نفس ہوتی ہے خواہ وہ کوئی پروفیسر ہو عالم دین یا کوئی عام آدمی ہو یہ احساس تو ہر انسان کے دل میں ہوتا ھے کہ میری معاشرے میں عزت ہو اور میں ایک عزت دار آدمی جیسى زندگی بسر کروں مگر کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کو بہت زیادہ عزت مل بھى جائے تو شاید ان سے ہضم نہیں ہو پاتى اور وہ اپنى حرکات و سکنات سے اپنا حقیقی روپ ظاہر کر ہى دیتے ہیں ایسا ہى ایک شخص بدقسمتی سے ہمارے ملک  کى معروف شخصیت ہے ماضى میں بھی اسکے  بہت سے کارنامے ہیں آج کل بھی یہ خبروں کی زینت بلکہ نشان ذلت  بنا ہوا ہے وہ صاحب کہنے کو تو عالم دین ہیں مفتی صاحب ہیں مگر گمراہ ہو چکے ہیں یقیناً آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ میں کس ہستى کا ذکر کرنے جا رہا ہوں جى ہاں میری مراد ہے جناب ذلت مآب مفتی عبدالقوی صاحب یہ صاحب واحد ایسے عالم دین ہیں جو ہمیشہ سے خبروں کی زینت بن کے رہنا پسند کرتے ہیں ویسے تو صاحب اور بھی بہت کچھ پسند فرماتے ہیں جس کا ذکر بقول ان کے ہى ہےکہ میں ریڈ  وائن پسند فرماتا ہوں چرس پینا ثواب سمجھتا ہوں اور حیسنوں کے بیچ رہنا اور غیر خواتین کے قرب کو کسى نعمت سے کم نہیں جانتا واہ مفتى صاحب واہ آپ خوب کرتے ہیں آپ تو حد کرتے ہیں. بطور ایک مذہبی شخصیت کے ہى کچھ خیال کر لیں آپ  اپنے چاہنے والوں کو کس قسم کا درس دینا چاہتے ہیں اپنا نہیں تو کچھ دین کا خیال کر لیں کچھ ملکى ساکھ کا ہى خیال کر لیں اور دیگر ملکوں بالخصوص غیر مسلموں کے آگے ملک کی جگ ہنسائی تو نہ کروائیں اور لوگوں کے سامنے دین کو مذاق مت بنائیں آپ سے یہ اعتراضات اس لئے ہیں کہ جناب نے مذہبی لبادہ اوڑھ رکھا ہے اور دنیا میں لوگ آپ کو ایک مذہبی شخصیت کے طور پر پہچانتے یہاں میرے ذہن میں ایک سوال اٹھتا ہے کہ مفتى عبدالقوى اس قسم کی بیہودہ حرکات سے کس کو خوش کرنا چاہتا ہے ؟کہیں ایسا تو نہیں کہ اسکے پىچھے یہودى لابى کا ہاتھ جو ہميشہ سے ہى اسلام دشمن رہى ہے مفتی قوی شہرت کے اس قدر بھوکے ہیں کہ سیلفى کو اپنا محبوب مشغلہ  قرار دیتے ہیں جناب اس بات کو بھی  بالکل  بھلا چکے  ہیں کہ  اسلامى معاشرے ميں ایک مفتی کا کیا کردار ہونا چاہیے ٹک ٹاک کا حامى یہ مولوی اپنی چھچھورى حرکتوں سے باز نہیں آنے والا اس لیے تو حال ہی میں اپنے گال لال کروا چکا ھے وہ بھی ایک بدنام زمانہ لڑکى کے ہاتھوں یا تو یہ مفتی صاحب بہت ہی بھولے ہیں جو بار بار لوگوں کی سازشوں کا شکار ہو جاتے ہیں یا ہم سب بھولے ہیں جو اس مولوی کی صفائیاں اور قسمیں سن کر خاموش ہو جاتے ہیں تبھى تو ان مفتی صاحب کے خلاف کوئی مناسب قانونی کارروائی نہیں ہو سکى یہ اسلامى جمہوریہ پاکستان ہے اسلامى نظر یہ کی بنیاد پر حاصل کیے گئے اس ملک میں کسى جاہل ترین گمراہ ترین نام نہاد مفتی کو اسلام کا مذاق اڑانے کی ہرگز اجازت نہیں ہونى چاہیے .شیطان کا پیروکار یہ  جھوٹا مفتی.ہمارے ملک کے دیگر علماء کرام کو بھی غیروں کى نظروں میں بدنام کرنے پر تلا ہوا ہے . تمام مکاتب فکر کے علماء کو چاہیے کہ اس مولوی کے خلاف سپریم کورٹ میں کیس دائر کریں اور مطالبہ کریں کہ یہ شخص یا تو اپنی حرکات سے باز آئے یا پھر اپنے نام کے ساتھ مفتی اور عالم دین نہ جوڑے  تبھى کوئی مناسب حل نکلے گا اور اس کھلے ہوئے مولوی کو لگام ڈلے گى 

(محمود مسعود نظامى)

google.com, pub-9821533189288546, DIRECT, f08c47fec0942fa0
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close