کالم

اور کورونا جیت گیا۔۔۔

ٹائٹل:  سحر ہونے تک 

آوازیں مدھم ہو چکی ہیں ۔ دماغ کی نسیں گنگ ہو چکی ہیں۔ سوچیں گم ہو چکی ہیں۔ لڑنے کی طاقت ختم ہو چکی ہے۔ اور جیت کی لگن بھسم ہو چکی ہے۔کیونکہ جس کسی نے بھی جتنا بولنا تھا بول لیا۔سننے والوں نے جتنا سننا تھا سن لیا۔جتنا سر دھننا تھا دھن لیا۔جتنا کسی نے لکھنا تھا لکھ لیا۔جتنا کسی نے پڑھنا تھا پڑھ لیا۔اور جتنا کسی نے تبصرہ کرنا تھا کر لیا۔اب بس بہت ہو چکا۔کورونا کا صبر اب جواب دے گیا ہے۔کورونا وائرس نے ہمیں بہت دیکھا کہ یہ قوم کسی نہ کسی طرح سدھر ہی جائے گی۔تھوڑا بہت میری تباہ کاری کا ہی لحاظ کر لے گی۔مجھ سے بچاؤ کے طریقے پر عمل کر کے ایک کامیاب ترین قوم ثابت ہو گی۔پوری دنیا میں اس قوم کا ڈنکا بجے گا۔اور میں اس ملک سے فرار ہو جاؤں گا۔لیکن بیچارے کورونا وائرس کے وہ تمام خواب اس پاکستانی قوم نے خاک کر دیے بلکہ یہ کہنا درست ہو گا کہ راکھ کر دیے۔اور کورونا وائرس کو پاکستان سے نکلنے کا موقع ہی نہیں دیا۔اور اب کورونا وائرس اس بہادر پاکستانی قوم کا اچھے طریقے سے بھرکس نکال رہا ہے بلکہ کچومر نکال رہا ہے۔کورونا وائرس نے ہمیں پیار کے ساتھ بہت سمجھایا۔باقی یورپی ملکوں میں کورونا وائرس نے پاکستان کا سارا غصہ ان پر نکالا بشمول بھارت اور ایران سمیت دیگر کئی ملکوں میں تباہی مچائی۔لیکن پاکستان کے ساتھ پیار سے کام کرتے ہوئے روزانہ کی تعداد میں محض تیس, چالیس, یا پچاس لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔لیکن ہم پھر بھی باز نہ آئے۔ہم نے کورونا کے اس غصے کو مذاق سمجھا اور سوچا کہ شاید کورونا ہم سے کھیل رہا ہے۔ اور ہم نے کورونا سے کھیلنے کے ساتھ ساتھ اس کا مذاق بھی اڑانا شروع کر دیا۔کورونا وائرس کو غصہ آ گیا۔اس کی تباکاریوں میں اضافہ ہوگیا۔ مرنے والوں کی روزانہ کی تعداد میں اضافہ ہو گیا اور روزانہ نوے ,سو ,اور ایک سو بیس کے قریب لوگ مرنے لگے۔ کورونا وائرس نے ہم سے کہا کہ "اب ہنسو مجھ پر بے وقوفو۔۔اب میرا مذاق اڑاؤ۔۔۔اب میرے خلاف بات کرو”۔ ہمیں تھوڑا بہت ہوش آیا۔ہم نے کورونا وائرس کو تھوڑا تھوڑا خطرناک محسوس کرنا شروع کر دیا۔اور اس کے بارے تحقیق کرنا شروع کر دی۔جرمانے کروا کروا کر ہم کو ماسک پہننے کی عادت پڑ گئی۔ ڈنڈوں سے پٹائی نے ہمیں ایک جگہ پر اکھٹا نہیں ہونے دیا۔اور آہستہ آہستہ کورونا وائرس ایک بار آدھا ملک سے نکل گیا اور آدھا رہ گیا۔جو آدھا چلا گیا تھا اس نے ہماری بے حسی اور لا پرواہی کو کمزوری سمجھ کر ہم کو چیلنج کر دیا کہ میں پھر دوبارہ آؤں گا۔۔۔اور تم سب کو دیکھ لوں گا۔ ہم نے ہاتھ کے اشارے سے کہا کہ جاؤ جاؤ دیکھ لیں گے تمھیں۔ہم نے اسے مکمل بھگانے کی بجائے ایک بار پھر لاپرواہی شروع کر دی۔ماسک وغیرہ کو اپنے آپ سے جدا کر دیا۔سماجی فاصلے کو پیروں کے نیچے مسل کر رکھ دیا۔آہستہ آہستہ ہم نے لاکھ ڈاؤن ختم کر دیا۔سکول کھول دیے گئے۔ہمیں یہ علم بھی تھا کہ کورونا وائرس ہم کو چیلنج کر کے گیا ہے کہ میں ایک بار پھر آؤں گا اور پہلے کی طاقت سے زیادہ آؤں گا۔اور ہمیں یہ بھی علم تھا کورونا وائرس باقی دوسرے ملکوں میں اپنی پوری طاقت کے ساتھ حملے کر رہا ہے۔ اور پاکستان میں بھی روزانہ کی تعداد سے دس یا بارہ کیسز تو نکل ہی رہے تھے لیکن ہم نے ایک بار پھر کورونا وائرس کا مذاق اڑایا۔اور اس کو برا بھلا کہا۔ماسک, سینیٹائزرز, اور سماجی فاصلے کو تو ہم پہلے ہی نظر انداز کر چکے تھے۔اور لاک ڈاؤن بھی مکمل طور پر ختم کر چکے تھے۔کورونا وائرس اپنا چیلنج پورا کرتے ہوئے ایک بار پھر واپس آیا۔اب وہ پہلے کی نسبت اور زیادہ غصے میں تھا اور اس نے ہمارے اس کے خلاف فیصلے کرنے میں ہی پچاس لوگوں کو زندگیوں سے محروم کر دیا اور ابھی تعداد بڑھ ہی رہی ہے۔ ہم ابھی تک اس کی تباہی کو مذاق سمجھتے ہوئے کوئی فیصلہ نہ کر سکے ۔اور ایک دوسرے کے منہ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔کورونا نے بڑے واضح انداز میں کہہ دیا ہے کہ میرا یہ دوسرا سپیل اس پاکستانی قوم کو بہت بھاری پڑے گا۔اور اس کا دوسرا سپیل واقعی بہت بھاری پڑ رہا ہے۔ کل پاکستان میں ساٹھ افراد کورونا وائرس کی وجہ سے ابدی نیند سو گئے۔لیکن دیگر افراد اس سے کچھ سبق حاصل نہ کر سکے۔کورونا وائرس کے خلاف جاری جنگ میں ہمارا رویہ اس طرح ہو چکا ہے کہ اگر ایک روڈ ایکسیڈینٹ ہوا ہو۔دو موٹرسائیکل سواروں کے درمیان ایکسیڈینٹ ہوا ہو۔دونوں تیز رفتار ایک دوسرے سے ٹکرائے ہوں۔ان میں سے ایک زخمی ہو گیا ہو اور ایک فوت ہو گیا ہو۔جو باقی دوسرے افراد اس منظر کو دیکھ رہے ہوں وہ اس کے اسباب ڈھونڈیں گے کہ یہ ایکسیڈینٹ تیز رفتاری کے باعث ہوا۔ان کو اس بات کا علم ہے کہ یہ تیز رفتاری کے باعث حادثہ ہوا ہے۔لیکن وہ پھر بھی اس سے عبرت حاصل کرنے کی بجائے ان سے بھی زیادہ تیز رفتاری کریں گے۔اور بلآخر اسی کا حادثے کی شکل میں نتیجہ نکلے گا۔آج پاکستان میں رہنے والے ہر شخص کو پتہ چل چکا ہے کہ یہ عالمی وبا پوری دنیا میں ہلاکتوں کے انبار لگا چکی ہے۔پاکستان میں بھی پورے جوش و ولولے کے ساتھ ہمارے ذہنوں پر مسلط ہو چکی ہے۔ہمیں یہ بھی علم ہے کہ یہ پاکستان میں ہر شخص پر ایک بار حملہ ضرور کرے گی۔لیکن پھر بھی ہم انا پرستی کو ہاتھوں سے نکلنے ہی نہیں دے رہے۔کورونا وائرس ایک بار پھر پاکستان میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ پاکستانی قوم اس کی پوزیشن کو مضبوط بنانے سے روکنے کی بجائے اپنی ہی پوزیشن سے ہٹ چکی ہے۔ جس کا نتیجہ ہمیں وہی دوبارہ تعلیمی ادارے بند, کاروباری سرگرمیاں معطل, اور وہی دوبارہ سمارٹ لاک ڈاؤن, مائکرو سمارٹ لاک ڈاؤن یا whatever آپ اسے جو مرضی لاک ڈاؤن کہہ لیں کہ صورت میں اٹھانا پڑ سکتا ہے۔اسی لیے اب کچھ بھی کر لیں۔کورونا وائرس مزید پھیلے گا۔کیونکہ کورونا وائرس جیت چکا ہے۔ہم تو میدان ہی چھوڑ چکے ہیں۔مزہ تو تب تھا کہ میدان میں ہوتے اور اس کا سامنا کرتے لیکن میدان میں آنے کی ہمارے اندر سقت نہیں ہے۔ہم ہار چکے ہیں اور کورونا وائرس نے ہم کو میدان سے ہی بھگا دیا ہے۔ہم تو جیتنے کی امید بھی نہیں کر سکتے کیونکہ ہم تو میدان چھوڑ چکے ہیں اور کورونا جیت چکا ہے۔

تحریر:   ساجد علی شمس 

sajidshmmas03@gmail.com

google.com, pub-9821533189288546, DIRECT, f08c47fec0942fa0
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close