کالم

انٹرنیٹ نوجوانوں کو مفلوج کر رہا ہے۔

عنوان 
   انٹرنیٹ نوجوانوں کو مفلوج کر رہا ہے۔
تحریر 
      ساجد علی شمس 

بے شک آج کا دور سائنسی ایجادات کے حوالے سے بلندیوں کو چھو رہا ہے۔کیونکہ آج سے تقریباً ایک صدی پہلے جب علامہ اقبال نے حسرت, حیرت, اور یقین کے ملے جلے لہجے میں فرمایا تھا کہ عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیںکہہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہہ کامل نہ بن جائے
کوئی نہ جانتا تھا کہ ان کی یہ پیش گوئی یقیناً ایک روز سچ ثابت ہو جائے گی اور ان کا ٹوٹا ہوا تارا مہہ کامل پر قدم رکھ دے گا بلکہ مہہ کامل پر قدم رکھنے سے لے کر لمحہ موجود تک سائنسی ارتقاء نے جس انتہا کو چھو لیا ہے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس کے سامنے اب مزید کسی اور جہاں کی تسخیر باقی نہیں رہی۔ اس میں بھی شک نہیں کہ انسان نے اپنی ذہنی کاوشوں سے ستاروں پر کمندیں ڈال دی ہیں۔چاند کا سفر طے کر لیا ہے۔زیر زمیں چھپی معدنیات کا کھوج لگایا ہے۔دنیا کو گلوبل ویلج میں تبدیل کر دیا ہے۔ان تمام ایجادات کی افادیت سے منکر ہونا میں تو کیا شاید کسی انسان کیلئے بھی ممکن نہیں۔لیکن معزز قارئین۔۔بات ایجادات کی نہیں ان کے استعمال کی ہے۔ شاید میری اس اختراع سے چند معزز قارئین متفق نہ ہوں لیکن نقطہ چینی کرنے سے پیشتر دماغ کی کھڑکیاں ضرور کھول لینی چاہییں تاکہ تازہ ہوا کا جھونکا اندر داخل ہو سکے۔انتہائی دکھ سے میرے دل کے نہاں خانے سے مثبت آواز سنائی دے رہی ہے کہ انٹرنیٹ نے ہماری نوجوان نسل کو ذہنی طور پر مفلوج کر دیا۔ مجھے یہ علم ہے کہ میرے یہ لکھے ہوئے الفاظ پڑھ کر چند معزز قارئین انگشت بدنداں ہوں گے۔اس میں ان کا کوئی قصور نہیں کیونکہ انہوں نے تصویر کا دوسرا رخ دیکھنا کبھی گوارا ہی نہیں کیا۔معزز قارئین۔جیسے میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ کسی چیز کی نہ ایجاد بری ہے اور نہ ہی اس کے موجد کا کوئی جرم ہے۔در حقیقت چیز کا استعمال اسے صحیح یا غلط بناتا ہے۔بندوق کو اگر آپ اپنی حفاظت کیلئے یا شکار کیلئے استعمال میں لائیں تو بہت بڑی نعمت ہے اگر یہی بندوق کسی معصوم انسان کو قتل کرنے میں استعمال کریں تو میں اس کو اچھا نہیں لکھ سکتا۔اسی طرح انٹرنیٹ خوبصورت اور انوکھی ایجاد ہے جس نے دنیا کو ایک گلوبل ویلج میں تبدیل کردیا۔جس نے دنیا جہاں کی تمام معلومات کو انسان کے قدموں میں ڈھیر کر دیا۔لیکن میری مخالفت انٹرنیٹ سے نہیں بلکہ میرا ہدف انٹرنیٹ پر موجود غیر معیاری مواد اور فحش قسم کا لٹریچر اور بے ہودہ قسم کی تصاویر ہیں۔جو نسل نو کو ذہنی ہیجان میں مبتلا کر رہی ہیں۔اچھا بھلا انسان اس مواد کو دیکھ کر حواس باختہ ہو جاتا ہے۔معزز قارئین۔آپ جانتے ہیں کہ نوجوانوں اور بچوں کے ذہن بلکل گندھی ہوئی مٹی کی طرح ہوتے ہیں۔کمہار جس سے اپنی مرضی سے مختلف  انواع و اقسام کے برتن تیار کرتا ہے۔ جس عمر میں نوجوانوں کی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے اور ان کے ذہنوں کو پختہ اور کامل رہنما کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کے اندر خوابیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرے۔ اگر آپ ان کو اس عمر میں شتر بے مہار کی طرح چھوڑ دیں گے تو اس کے نتائج کے ذمہ دار ہم خود بھی ہوں گے۔دنیا میں جس قوم نے ترقی کے زینے کو طے کیا ہے انہوں نے سب سے پہلے اپنی نوجوان نسل کی تربیت کی ہے۔اگر نوجوان نسل کی تربیت نہ کی جائے تو وہ معاشرے کیلئے ناسور بن جاتے ہیں۔یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ہم نو آموز ہاتھوں میں انٹرنیٹ تھما کر کہیں کہ سب اچھا ہے۔یاد رکھیں اگر کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لے تو اس کا  مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ بلی سے بچ گیا۔اگر ہم نے نوجوان نسل کو انٹرنیٹ کے سپرد کر کے چھوڑ دیا تو نہ صرف اس کی نیندیں اچاٹ ہوں گی بلکہ ان کے دماغوں میں ایسا خلل برپا ہو گا جس کا علاج حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں ہے۔معزز قارئین۔میرا آج کالم لکھنے کا مقصد نوجوان نسل کو اس ذہنی ہیجان میں مبتلا ہونے سے بچانے کیلئے بہترین رائے پیش کرنا تھا۔میں یہ نہیں کہتا کہ انٹرنیٹ استعمال نہ کیا جائے میں تو صرف یہ چاہتا ہوں کہ اس کے استعمال کیلئے قانون سازی کی جائے اور ایک خاص عمر تک کی نسل کو انٹرنیٹ کا استعمال ممنوع ہو تاکہ ہم بڑی تباہی سے بچ سکیں۔ہم جدید عہد میں زندہ ہیں۔اب فوج سے کسی ملک کو مفتوح کرنے کے زمانے لد گئے۔اس جدید عہد میں جس ملک یا قوم سے بدلہ لینا ہو اب اس پر نہیں بلکہ اس کے کچے ذہنوں پر حملہ کر کے اس کو مفلوج بنایا جاتا ہے۔تاکہ وہ نسل کار آمد شہری ثابت نہ ہو سکے۔اس خوفناک نتائج کی پرواہ کرتے ہوئے ہمیں سوچنا ہو گا اگر خدانخوستہ خاکم بدہن ہماری آئندہ نسل ذہنی اور دماغی طور پر مفلوج ہو گئی تو ہم صدیوں پرانی انسانی غلامی کے عہد میں زندہ رہنے پر مجبور کر دیے جائیں گے۔میری حکومت پاکستان سے استدعا بھی ہے اور التجا بھی ہے کہ خدارا اگر ہماری نوجوان نسل کو بچانا ہے تو فی الفور نوجوان نسل کیلئے انٹرنیٹ کا استعمال ممنوع قرار دیا جائے اور قانون سازی کر کے ایک خاص عمر کو پہنچ کر اس نعمت سے ضرور فیض یاب ہونے کا موقع دیا جائے۔


sajidshmmas03@gmail.com

google.com, pub-9821533189288546, DIRECT, f08c47fec0942fa0
Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close