کالم

عنوان۔۔۔ ہماری پکار۔۔۔کون سنے گا؟

ٹائٹل۔۔۔   سحر ہونے تک 

عنوان۔۔۔   ہماری پکار۔۔۔کون سنے گا؟

رات کا آخری پہر ہے۔میں اپنے نام آئے سرخ رنگ سے لکھے ہوئے خط کو کھولتا ہوں۔یہ سرخ رنگ روشنائی کا نہیں ۔یہ رنگ ہے وہشت و بربریت ،انتہا پسندی اور دہشت گردی کا شکار ہونے والے معصوم افراد اور بچوں کے لہو کا۔وہ لکھتے ہیں۔سنا ہے بابو۔۔تم تحریریں بہت لکھتے ہو۔کالموں کے انبار لگاتے ہو۔عشق و محبت کی بات کرتے ہو۔سیاست اور جمہوریت کا راگ الاپتے ہو۔ملک کی ترقی کی بات کرتے ہو۔کسی نہ کسی موقع کی تلاش میں رہتے ہو کہ ملک کی ترقی کا جشن منایا جائے۔اگر یہ بات ہے تو جاؤ اور ارباب بست و کشا تک ہمارا یہ سوال پہنچا دو کہ تم کس کا جشن مناتے ہو؟کس کیلئے تحریریں لکھتے ہو؟کس کو آنکھوں کے سامنے رکھا هے؟کون سی چیز تم کو ہم سےمخاطب ہونے نہیں دیتی؟تم کس کے شادیانے بجاتے ہو؟کون سی ترقی کی بات کرتے ہو؟کس کا جشن مناتے ہو؟کیا تم ان بے گناہ لوگوں کا جشن مناتے ہو جو فیکٹری میں سارا دن جلتے رہے یا ان کا جن پر سارا دن گولیوں کی بارش ہوتی رہی۔ان کا جو تعلیم کے زیور سے آراستہ ہونے نکلے اور لہو کے ہار سینوں پہ سجائے گھروں کو واپس لوٹے یا ان کا جن کو قرآن مجید پڑھتے وقت بم دھماکے سے اڑا دیا گیا۔وہ خواب,خیال,تمنائیں جو جسم کے ساتھ ہی خاک ہوئیں یا وہ معصوم حسینائیں جو ہوس پرستی کا شکار ہوئیں۔کیا تم ان سو افراد کے مرنے کا جشن مناتے ہو یا کورونا وائرس سے مرنے والے لوگوں کا؟ یا پھر ہزارہ برادری کے مرنے والے بےگناہ لوگوں کا؟معزز قارئین۔ان کا خط پڑھ کر میں گھبرا کر آنکھیں کھول لیتا ہوں۔اور ان کے سوالوں کے جواب اپنے آپ سے طلب کرتا ہوں کہ کیا ملک پاکستان میں بسنے والے مڈل کلاس لوگوں کو کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ بغیر خوف و خطر خوشی کے ساتھ زندگی گزار سکیں؟ آج امیر,امیر سے امیر تر ہوتا جا رہا ہے اور غریب,غریب سے غریب تر ہوتا جارہا ہے۔چند دنوں پہلے ہزارہ برادری کے مرنے والے بےگناہ لوگوں نے  ہمارے دماغوں کے پرغچے اڑا کر رکھ دیے ہیں۔کہ کیا ایک بار پھر سے امن دشمن لوگ ملک کے ساتھ کھیلنا چاہتے ہیں؟اور ہمارے وزراء کا یہ بیان ہمیں اندر ہی اندر کھا رہا ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کر رہا ہے۔اور تعجب کی بات ہے کہ ہمارے وزراء یہ پہلے بتا دیتے ہیں کہ اتنے دہشت گرد پاکستان میں داخل ہو چکے ہیں اور اب یہ واقعہ ہو گا۔اگر آپ کو پتہ چل جاتا ہے تو آپ اس واقع کو روکنے کیلئے کوئی اقدام کیوں نہیں کرتے؟آپ اس وقت کیا جھک مار رہے ہوتے ہیں؟ ریاست کا فرض,حق,اور ذمہ داری ہے کہ وہ افراد کی زندگیوں کا تحفظ کرے۔ہزارہ برادری کے قتال سے پہلے پشاور میں ایک خوفناک دھماکہ دیکھنے میں آیا جس نے کئی افراد کی جانیں لیں اور اس سے پہلے کراچی میں ایک عالم دین جو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔اس کے بعد کوئٹہ میں دھماکہ ہوا اور اب ہزارہ برادری کے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے۔اور ہمارے مخلص,دیانتدار,ایماندار,اور چوبیس گھنٹے کام کرنے والے وزراء نے یہ بیان داغا کہ یہ سب بھارت کر رہا ہے۔سوال یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بھارت کیا کر رہا ہے؟ کیا ہم دہشت گردی کے خلاف ایک بار جنگ جیت نہیں چکے؟ کیا ہم دہشت گردی کے خلاف ہزاروں جانوں کا نذرانہ پیش کر نہیں چکے؟ کیا ہم دہشت گردی سے ایک بہت بڑا جانی اور مالی نقصان اٹھا نہیں چکے؟کیا ہم اپنے وطن کے سپوتوں کو وطن پر قربان ہوتے دیکھ نہیں چکے؟ کیا ہم پشاور کے معصوم بچوں کو آگ میں جھلستا دیکھ نہیں چکے؟ بلکل ہم دیکھ اور کرچکے ہیں۔ہم نے لا تعداد قربانیاں دی ہیں۔کیا ایک بار پھر سے اس دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دینا پڑیں گی؟ کیا ایک بار پھر سے خون کی ندیاں بہیں گی؟ نہیں۔۔۔ایسا دوبارہ نہیں ہو سکتا اور خدا کرے ایسا دوبارہ نہ ہو۔معزز قارئین۔آج پاکستان مختلف مسائل میں گھرا ہوا ہے۔مہنگائی,بےروزگاری,غربت میں اضافہ,ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ,کورونا کیسز میں اضافہ,اور دہشت گردی ایک بار پھر سے سر اٹھا رہی ہے۔آج ایک غریب کیلئے زندگی گزارنا بہت مشکل ہو چکا ہے۔میں ان لوگوں کی بات نہیں کر رہا۔جن کے پاس کاریں,بنگلے,عالی شان مکان,اور حتٰی کہ اپنے پرائیویٹ جہاز تک ہیں۔میں تو ان غریب لوگوں کی بات کر رہا ہوں جن کی پانچ سو سے چھے سو روپے دہاڑی ہے۔اور ان کیلئے تو دو وقت کی روٹی کھانا بھی اجیرن ہو چکا ہے۔میں ان لوگوں کی بات نہیں کر رہا جن کی اولادیں برطانیہ,امریکہ,کینیڈا,یا پھر کسی اور بڑے ملک میں تعلیم حاصل کررہی ہیں۔میں تو ان لوگوں کی اولادوں کی بات کر رہا ہوں جو پڑھائی کی عمر میں اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں اوزار پکڑنے پر مجبور ہیں۔میں ان لوگوں کی بات نہیں کررہا جو معمولی بخار ہونے پر لندن یا پھر امریکہ میں علاج کرانے چلے جاتے ہیں میں تو ان لوگوں کی بات کر رہا ہوں جو ٹی۔بی اور یرقان جیسے خطرناک مرض کی دوا سرکاری ہسپتالوں سے لینے کیلئے دھکے کھانے پر مجبور ہیں۔ میں ان لوگوں کی بات نہیں کر رہا جن کے پاؤں میں لاکھوں کے جوتے ہوں میں تو ان لوگوں کی بات کررہا ہوں جن کے پیروں میں جوتوں کی جگہ کانٹوں کی چھبن ہے۔میں ان لوگوں کیلئے اپنی آواز بلند نہیں کررہا جو جب چاہیں Five Star ہوٹل سے کھانا منگوائیں۔میں تو ان غریب لوگوں کیلئے آواز بلند کر رہا ہوں جو کوڑے کے ڈھیر سے کھانا تلاش کرتے ہیں۔خدارا۔۔۔ان غریب لوگوں پر کچھ تو رحم کیا جائے۔کچھ تو احساس کیا جائے۔ان کو جینے کا حق دیا جائے۔اس عوام کو مسائل در مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کا کوئی پرسان حال نہیں۔عوام پاکستان اچھی خبروں کیلئے ترس چکے ہیں۔ان کی نظر میں یہ اچھی خبر نہیں کہ آج ورلڈ بینک نے پاکستان کو اتنے ارب قرضہ دے دیا۔کیا یہ اچھی خبر ہے؟ عوام پاکستان کو اتنا بےوقوف سمجھا ہے؟کیا ان کو اتنا بھی علم نہیں کہ وہ قرضہ ہمیں ہی ٹیکسوں کی صورت میں واپس کرنا ہے۔آج سبزیاں,دالیں,آٹا,چینی,عوام کی پہنچ سے بہت دور جا چکے ہیں۔آٹا مہنگا بلکہ نایاب ہو چکا ہے۔اور یہاں ایک دوسرے کو غدار,غدار کے سرٹیفیکیٹ بانٹے جارہے ہیں۔عوام کا کسی کو کوئی احساس نہیں۔۔خدارا۔۔کچھ رحم کیا جائے۔عوام پاکستان کی پکار کو نظر انداز نہ کیا جائے۔وہ چیخ چیخ کر اقتدار کے ایوانوں کے سربراہوں کو پکار رہے ہیں کہ ہماری پکار۔۔۔۔کون سنے گا۔۔؟   کون سنے گا۔۔۔ہماری پکار۔۔۔

تحریر۔۔۔   ساجد علی شمس 

sajidshmmas03@gmail.com

google.com, pub-9821533189288546, DIRECT, f08c47fec0942fa0
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close