پاکستانکرکٹ

لیفٹ آرم سپنر نعمان علی: سانگھڑ کی ٹیپ بال سے پاکستانی ٹیسٹ سکواڈ تک

مڈل آرڈر بیٹسمین سعود شکیل، کامران غلام، آغا سلمان، لیفٹ آرم سپنر نعمان علی، آف سپنر ساجد خان اور فاسٹ بولر تابش خان کے لیے جنوبی افریقہ کے خلاف ہونے والی ٹیسٹ سیریز کے 20 رکنی پاکستانی ٹیسٹ سکواڈ میں شمولیت دراصل ان کی اس محنت کا صلہ ہے جو وہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں کرتے آ رہے ہیں۔

نعمان علی: ماموں کو دیکھ کر سپنر بنا

34 سالہ نعمان علی کا تعلق سانگھڑ کے تعلقہ کِھپرو سے ہے جہاں انھوں نے اپنی کرکٹ کسی بھی دوسرے نو عمر لڑکے کی طرح ٹیپ بال سے شروع کی۔ جب وہ 13 سال کے تھے تو والد کی ملازمت کی وجہ سے فیملی حیدرآباد منتقل ہو گئی جہاں نعمان علی نے فضل الرحمن کلب کی طرف سے باقاعدہ کلب کرکٹ شروع کی۔

نعمان علی کو کرکٹ کا شوق اپنے ماموں رضوان احمد کو دیکھ کر ہوا جنھوں نے ایک ون ڈے انٹرنیشنل میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔

مڈل آرڈر بیٹسمین سعود شکیل، کامران غلام، آغا سلمان، لیفٹ آرم سپنر نعمان علی، آف سپنر ساجد خان اور فاسٹ بولر تابش خان کے لیے جنوبی افریقہ کے خلاف ہونے والی ٹیسٹ سیریز کے 20 رکنی پاکستانی ٹیسٹ سکواڈ میں شمولیت دراصل ان کی اس محنت کا صلہ ہے جو وہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں کرتے آ رہے ہیں۔

نعمان علی: ماموں کو دیکھ کر سپنر بنا

34 سالہ نعمان علی کا تعلق سانگھڑ کے تعلقہ کِھپرو سے ہے جہاں انھوں نے اپنی کرکٹ کسی بھی دوسرے نو عمر لڑکے کی طرح ٹیپ بال سے شروع کی۔ جب وہ 13 سال کے تھے تو والد کی ملازمت کی وجہ سے فیملی حیدرآباد منتقل ہو گئی جہاں نعمان علی نے فضل الرحمن کلب کی طرف سے باقاعدہ کلب کرکٹ شروع کی۔

نعمان علی کو کرکٹ کا شوق اپنے ماموں رضوان احمد کو دیکھ کر ہوا جنھوں نے ایک ون ڈے انٹرنیشنل میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔

نعمان علی کہتے ہیں کہ اس وقت انہیں ٹیم میں شامل نہ ہونے کا افسوس ضرور ہوا تھا لیکن وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ آپ کی محنت رائیگاں نہیں جاتی

وہ پاکستان سپر لیگ میں ملتان سلطانز کی طرف سے بھی کھیل چکے ہیں۔انہوں نے انگلینڈ میں بریڈ فورڈ لیگ کرکٹ بھی کھیلی ہے۔

نعمان علی اس سال ناردن کی طرف سے کھیلتے ہوئے قائداعظم ٹرافی میں 61 وکٹیں حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہے ہیں۔ انھوں نے چھ مرتبہ اننگز میں پانچ یا زیادہ وکٹیں حاصل کیں جبکہ وہ تین بار میچ میں دس یا زیادہ وکٹیں لینے میں کامیاب رہے۔

نعمان علی گذشتہ سال بھی قائداعظم ٹرافی میں سب سے زیادہ 54 وکٹیں لینے میں کامیاب رہے تھے جس میں 71 رنز کے عوض 8 وکٹوں کی کریئر کی بہترین کارکردگی بھی شامل تھی۔

پاکستانی ٹیم کے دورۂ نیوزی لینڈ کے سلیکشن کے موقع پر بھی یہ کہا جارہا تھا کہ نعمان علی کو ضرور موقع ملے گا۔ چیف سلیکٹر مصباح الحق سے ان کے بارے میں سوال بھی ہوا تھا لیکن ان کا کہنا تھا کہ چونکہ 42 نام نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کو پہلے بھیجے جا چکے تھے لہذا نعمان علی اسکواڈ کا حصہ نہیں بن پائے۔

نعمان علی کہتے ہیں کہ اس وقت انہیں ٹیم میں شامل نہ ہونے کا افسوس ضرور ہوا تھا لیکن وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ محنت رائیگاں نہیں جاتی۔

اس سوال پر کہ 34 سال کی عمر میں کیا آپ یہ نہیں سمجھتے کہ اب آپ کے پاس انٹرنیشنل کرکٹ کے لیے زیادہ وقت نہیں رہا؟

نعمان علی کہتے ہیں کہ عمر محض اعداد و شمار ہے اگر آپ فٹ ہیں اور میدان میں اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں تو پھر عمر کا کوئی تعلق نہیں۔

یونس خان اور مصباح الحق بھی فٹ رہ کر انٹرنیشنل کرکٹ کھیلتے رہے ہیں اور ان کی راہ میں عمر حائل نہیں ہوئی۔

نعمان علی کہتے ہیں کہ اس وقت ڈومیسٹک کرکٹ میں ان کے علاوہ دوسرے لیفٹ آرم سپنرز میں ظفر گوہر اور کاشف بھٹی شامل ہیں۔ ان دونوں کو دیکھ کر وہ یہی سوچتے رہے ہیں کہ اگر ان دونوں کو موقع مل سکتا ہے تو مجھے کیوں نہیں؟

google.com, pub-9821533189288546, DIRECT, f08c47fec0942fa0
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close